حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 77
22 استعمال ہوتے ہیں اور بہت سے قریب تر ہیں جیسا کہ کسی کو آواز دینے کے لئے کشمیری میں ہا تو یا اتو کالفظ استعمال ہوتا ہے تو عبرانی میں اتوہ ہے۔کشمیری میں چادر کوژا در کہتے ہیں اور عبرانی میں اور اس طرح پار کرنے کو کشمیری میں عپور کہتے ہیں تو عبرانی میں عبر کہتے ہیں۔پھونکنے کے لئے کشمیری میں فو کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو عبرانی میں فاہ فو الغرض سینکڑوں الفاظ آپس میں ملتے ہیں یا پھر قریب تر ہیں۔اور یہ سب اس بات کی علامتیں ہیں کہ کشمیری حقیقتا اسرائیلی النسل ہیں۔پس حضرت عیسی علیہ السلام انہیں کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرتے ہوئے ان تک پہنچے تھے۔اور پھر انہیں میں آپ نے بودوباش اختیار کر لی۔پس آپ کا سفر جو آپ نے ان کھوئی ہوئی بھیٹروں کے لئے اختیار کیا تھا وہ ایران افغانستان اور پنجاب کا تھا آپ اسی راستہ سے ہوتے ہوئے کشمیر میں تشریف لائے تھے اور ان بنی اسرائیلیوں کی اصلاح کا کام کیا۔حضرت مسیح کشمیر میں مسیحی حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح صلیب پر مر کر ہمارے لئے کفارہ ہوئے جیسا کہ آپ گزشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے بلکہ اُن کو خدا الجسم عصری زندہ آسمان پر لے گیا۔اور وہ آخری زمانہ۔میں نازل ہونگے۔جس طرح گزشتہ صفحات میں بائیبل کی روشنی میں مسیح کی صلیبی موت