حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 68
۶۸ کام بند کر دیئے تھے۔آپ کا یہی طریق تھا کہ جہاں بھی آپ کی شہرت ہونے لگتی آپ اس جگہ کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے کیونکہ آپ کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کریں اور اُن میں تبلیغ کا کام کریں۔اس لئے آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف اُن کی تلاش میں نکل جاتے تھے۔گزشتہ بحث سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح صلیب سے زندہ اُتار لئے گئے تھے اور پھر بے ہوشی سے ہوش میں آکر اپنے شاگردوں کو بھی ملتے رہے اس کے آگے بائبل یہ بیان کرتی ہے کہ پھر مسیح آسمان پر چلے گئے۔اگر تو یہ بات درست ہے کہ آپ آسمان پر چلے گئے تھے تو پھر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیجے جانے والی بات جھوٹ ہو جاتی ہے اور نبی جھوٹ نہیں بولتا جیسا کہ یونس کے نشان سے بھی ثابت ہو گیا ہے تو پھر لازما یہ بات ہے کہ آپ بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں کسی اور طرف نکل گئے تھے چونکہ اس معاملہ میں بائبل خاموش ہے اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تاریخی واقعات کی طرف رجوع کریں اس کی ابتداء بائبل ہی سے کرتے ہیں لکھا ہے کہ :- اور جلد جا کر اس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔اور دیکھو وہ تم سے پہلے گلیل کو جاتا ہے وہاں تم اُسے دیکھو گے۔دیکھو میں نے تم سے کہہ دیا۔۔۔۔۔اس پر یسوع نے اُن سے کہا۔ڈرو نہیں۔جاؤ میرے بھائیوں کو خبر دو تا کہ گلیل کو چلے جائیں وہاں مجھے دیکھیں گے۔‘ ( متی باب ۲۸ آیت ۱۰۷) اسی طرح آگے لکھا ہے کہ :- وو اور گیارہ شاگر دلیل کے اُس پہاڑ پر گئے جو یسوع نے اُن کے لئے مقرر