حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 63 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 63

اسی بات پر بس نہیں جو آپ نے بار بار دہرائی بلکہ آپ نے اپنے شاگردوں کو نصیحت بھی یہی کی کہ وہ بھی بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کریں اور اُن میں کام کریں جیسا کہ لکھا ہے :- اُن بارہ کو یسوع نے بھیجا اور انہیں حکم دے کے کہا کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔“ (متی باب ۱۰ آیت ۶،۵) تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے فلسطین میں آباد تھے اُن پر بخت نصر بادشاہ نے حملہ کیا تو ان بارہ قبیلوں میں سے ۱۰ قبیلے فلسطین کو چھوڑ کر کسی اور طرف چلے گئے تھے اور صرف دو قبیلے ہی فلسطین میں آبادرہ گئے تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے کام میں جس خاص بات کو بیان کیا اور اپنے شاگردوں کو جس بات کی تلقین کی وہ یہی تھی کہ وہ اُن گم شدہ قبائل کی تلاش کریں اور اُن میں میرا پیغام پہنچائیں۔حضرت مسیح نے بھی اس بات کو بیان فرمایا اور شاگردوں کو بھی اس کام کی تلقین کی۔حضرت مسیح کی یہ بات کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے کہ آپ ضرور اُن کی تلاش کریں گے اور اُن میں کام کریں گے۔اگر آپ نے اپنی زندگی میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اپنے مشن میں ناکام رہے کہ جس بات کو آپ بار بار بیان کرتے اور شاگردوں کو تلقین کرتے تھے اُس میں آپ فیل ہو گئے آپ کی صداقت کا نشان تو یہ بنتا ہے کہ آپ نے اُن کو تلاش بھی کیا ہو اور اُن میں کام کر کے کامیابی بھی حاصل کی ہو۔آئیے ! بائبل اور تاریخ کی رُو سے جائزہ لیتے ہیں کہ آپ اپنی بعثت کے مقصد