حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 53 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 53

(یوحنا باب ۲۰ آیت ۲۵ تا ۲۹) تھو ما حواری کو بالکل یقین نہ تھا کہ مسیح زندہ بچ گئے ہوں اس لئے اس نے حواریوں کی باتوں کو سن کر بھی یقین نہ کیا کہ وہ زندہ ہیں اُن کو یہ شک گزرا کہ ہوسکتا ہے اس جیسا کوئی دیکھا ہو یا اس کی روح دیکھی ہو اس لئے اس نے کہا کہ میں انگلی سوراخ میں ڈال کر دیکھوں گا پھر اعتقاد کروں گا مسیح نے تھوما کو یہی یقین دلانے کے لئے کہا کہ میرے سوراخ میں اور پہلی میں ہاتھ ڈال تا کہ اعتقاد ہو۔یہ حوالہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلیب سے زندہ اُترے اور جو وجود تھوما کو ملا اور اُس کو اپنے زخم دکھائے وہ وہی مسیح تھے جو بے ہوشی سے ہوش میں آگئے تھے۔ہم نے گزشتہ بحث میں یہ ثابت کیا ہے کہ مسیح جب صلیب سے اُتارے گئے اور قبر نما کمرے میں جب اُن کو رکھا گیا تو وہ زندہ تھے اور پھر آپ اُس قبر میں تین دن رات زندہ ہی رہے اور پھر زندہ ہی نکلے ہمارے ان دلائل کے پڑھنے کے باوجود بھی اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ مسیح صلیب پر مر کر زمین کے پیٹ میں گئے تھے اور تین رات دن مرے ہی رہے پھر زندہ ہو کر باہر آئے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے اس نشان کو جھٹلانے والا ہے جو آپ نے دکھانے کا وعدہ کیا تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسیح نے جو ایک نشان دکھانے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا نہ کر سکے۔اس طرح آپ جھوٹے ٹھہرتے ہیں نعوذ باللہ۔پس اس موازنہ سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔جو حضرت مسیح کو صلیب پر مار کر مردہ قبر میں داخل کرتے اور تین دن بعد زندہ نکالتے ہیں وہ حضرت مسیح کو جھوٹا ثابت کر رہے ہیں اور جو حضرت مسیح کے صلیب سے زندہ اُترنے اور زندہ قبر میں داخل ہونے اور پھر زندہ باہر نکلنے کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں وہی دراصل حضرت مسیح کو سچا ثابت کر رہے ہیں۔