حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 52 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 52

۵۲ جو زخمی تھے۔پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ حواریوں کو ملنے کے بعد سب سے پہلے جس چیز کا مطالبہ کیا وہ یہ تھا کہ ”یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟‘ اس پر حواریوں نے مسیح کو بھٹی مچھلی کا قتلہ دیا جو کہ مسیح نے ان کے سامنے کھایا۔مُردہ آدمی کو بھوک کا کوئی احساس نہیں ہوتا مسیح چونکہ دو دن سے بھوکے تھے بے ہوشی کی وجہ سے اُنہوں نے کچھ نہ کھایا تھا اس لئے آپ نے سب سے پہلے اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے کچھ کھانے کو مانگا اور مسیح نے اُن کے سامنے اسے کھا کر یہ بتایا کہ میں بھوکا بھی ہوں اور پھر انسانی وجود میں بھی۔مسیح کا بھو کا ہونا اور سب سے پہلے کھانے کے لئے مانگنا یہ بھی اُن کے صلیب سے زنده اتر کر تین دن رات بے ہوش رہنے کی دلیل ہے۔گیارہویں دلیل مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے اور پھر اُسی وجود میں جو کہ انسانی تھا اور زخمی تھا اور بے ہوشی سے ہوش میں آ گیا تھا اس کی دلیل بائبل میں اس طرح درج ہے کہ : وو " باقی شاگرد اُس سے کہنے لگے ہم نے خداوند کو دیکھا ہے مگر اُس نے اُن سے کہا کہ جب تک میں اُس کے ہاتھوں میں میخوں کے سوراخ نہ دیکھ لوں اور میخوں کے سوراخوں میں اپنی انگلی نہ ڈال لوں اور اپنا ہاتھ اس کی پسلی میں نہ ڈال لوں ہرگز یقین نہ کروں گا۔آٹھ روز کے بعد جب اُس کے شاگرد پھر اندر تھے اور تھو ما ان کے ساتھ تھا اور دروازے بند تھے تو یسوع آیا اور بیچ میں کھڑا ہو کر بولا تمہاری سلامتی ہو۔پھر اُس نے تھوما سے کہا کہ اپنی انگلی پاس لا کر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لا کر میری پہلی میں ڈال اور بے اعتقاد نہ ہو بلکہ اعتقاد رکھ۔تھو مانے جواب میں اُس سے کہا اے میرے خداوند اے میرے خدا یسوع نے اُس سے کہا تو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا ہے مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے۔“