حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 47
۴۷ زندہ کہنا اور ماننا ضروری تھا۔ماحصل یہ ہوا کہ جب دوسرے دونوں زندہ تھے تو مسیح بھی لازما زندہ ہی تھے لیکن وہ بے ہوش تھے پھر دوسروں کی تو ٹانگیں توڑی گئیں لیکن مسیح کی ٹانگیں نہ توڑی گئی تھیں۔پانچویں شہادت مسیح کے صلیب سے زندہ اُترنے کی جو مندرجہ بالا حوالہ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کو جب صلیب سے اُتارا جانے لگا تو ایک سپاہی نے بھالے سے اُس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے خون اور پانی بہہ نکلا۔بات یہ ہے کہ گزشتہ حوالہ میں یہ آچکا ہے کہ صوبہ دار نے گواہی دی کہ اُس کو مرے ہوئے دیر ہوگئی۔اگر مرے ہوئے دیر ہوگئی ہو اور مسیح واقعی مر چکے ہوں تو پھر ان کے جسم سے خون نہیں نکلنا چاہئے تھا۔کیونکہ مردہ جسم سے خون نہیں نکلا کرتا۔مسیح علیہ السلام کے جسم سے جہاں سے اُن کو چھیدا گیا تھا وہاں سے خون کا نکلنا اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ آپ بے ہوش تھے اور زندہ تھے۔چھٹی شہادت جو آپ کے زندہ صلیب سے اتر نے کی ہے اس کے متعلق بائبل میں لکھا ہے کہ :- دوسرے دن جو تیاری کے بعد کا دن تھا سردار کاہنوں اور فریسیوں نے پیلاطس کے پاس جمع ہو کر کہا۔خداوند ہمیں یاد ہے کہ اُس دھو کے باز نے جیتے جی کہا تھا کہ میں تین دن کے بعد جی اُٹھوں گا پس حکم دے کہ تیسرے دن تک قبر کی حفاظت کی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس کے شاگرد آکر اُسے چرا لے جائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مردوں میں سے جی اُٹھا تو یہ پچھلا دھوکا پہلے سے بھی بڑا ہو گا۔“ متی باب ۲۷ آیت ۶۲ تا ۶۴) یہود کو بھی اس بات کا شک تھا کہ مسیح زندہ ہیں۔اس لئے اُنہوں نے پیلاطس سے اس بات کی درخواست کی کہ وہ اس کی قبر پر پہرہ بٹھا دیں اور خیال رکھے جانے کا انتظام کرے لیکن پیلاطس نے ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا یہ بھی اس بات کی شہادت ہے کہ مسیح زندہ