حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 20
کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اُٹھائے گی۔جیسا کہ لکھا ہے :- وو وہ جان جو گناہ کرتی ہے سو ہی مرے گی۔بیٹا باپ کی بدکاری کا بوجھ نہیں ٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کی بدکاری کا بوجھ اُٹھائے گا۔صادق کی صداقت اسی پر ہوگی اور شریر کی شرارت اُسی پر پڑے گی۔“ اسی طرح لکھا ہے کہ :- (حزقی ایل باب ۱۸ آیت ۲۰) اولاد کے بدلے باپ دادے مارے نہ جائیں نہ باپ دادوں کے بدلے اولا قتل کی جائے ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب مارا جائے گا۔“ (استثناء باب ۲۴ آیت ۱۶) بائبل کی یہ بات نہایت درجہ عدل اور انصاف پر مبنی ہے اور ہر شخص اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے۔چھوٹی سے چھوٹی عقل رکھنے والا انسان بھی اس اصول کو جانتا ہے کہ جو گناہ کرے گا اس کی سزا اُسی کو دی جائے گی یہ کبھی نہیں ہوتا کہ باپ گناہ کرے تو سزا بیٹے کو دی جائے۔زید قتل کرے تو عمر کو پھانسی ہو۔یہ بھی کبھی نہیں ہوتا کہ عزیز کھانا کھائے تو نذیر کا پیٹ بھرے۔اس لحاظ سے کفارہ کی تردید خود بائبل کی تعلیم سے ثابت ہے۔اور ایک بچہ بھی اور کم عقل رکھنے والا بھی اس کو ر ڈ کر دے گا۔قرآن کریم بھی اس بائبل کی تعلیم کو اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ :- وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى ج (الانعام آیت ۱۶۵) یعنی ہر ایک نفس جو کچھ کماتا ہے اسکا ( وبال) اس پر پڑتا ہے۔اور کوئی بوجھ 66 اُٹھانے والی ( ہستی ) دوسری ( ہستی ) کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتی۔“ پس یہ بات شرعی لحاظ سے بھی اور عقلی لحاظ سے بھی اور انسانی فطرت کے لحاظ سے بھی