حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 19 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 19

۱۹ دیکھا کہ وہ درخت کھانے میں اچھا اور دیکھنے میں خوشنما اور عقل بخشنے میں خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے خصم کو بھی دیا۔اور اُس نے کھایا۔تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہوا کہ ہم نگے ہیں۔اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کے اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔“ ( پیدائش باب ۳ آیت ا تا۷ ) حضرت مسیح پر ایمان لانے والوں کا کہنا ہے کہ آدم جو کہ پہلا انسان تھا اس نے ایک گناہ کیا کہ اُس پھل سے کھایا جس سے کھانا منع کیا گیا تھا۔اس کا یہ گناہ ورثہ میں نسل انسانی میں چل پڑا۔اس پر خدا نے یہ چاہا تھا کہ وہ اس گناہ سے نسل انسانی کو نجات بخشے تب اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے یسوع کو بن باپ پیدا کر کے دنیا میں بھیجا۔تب اُس بیٹے نے تمام نسل انسانی کا گناہ اپنے سر پر لیتے ہوئے اپنے آپ کو صلیبی قربانی کے لئے پیش کر دیا۔عیسی کے ماننے والے یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مسیح اُن تمام لوگوں کے گناہوں کا کفارہ پیش کر گئے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔یہ بات بڑی ہی خوش آئند ہے کہ لوگوں کے گناہ بنا کوئی تکلیف اُٹھائے معاف ہو جائیں اور پھر سزا سے بھی بچ جائیں ایسا انسان بڑا ہی خوش نصیب ہے کہ اس کا شمار نجات یافتہ لوگوں میں ہو۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا بائبل کی تعلیم عیسائیت کے اس عقیدہ کی تائید کرتی ہے اگر تائید موجود ہو تو اس کا اثر بھی ظاہر ہوگا اگر اثر ظاہر نہیں ہوتا اور بجائے تائید کے تردید کرتی ہو تو پھر اس کو فرضی عقیدہ خیال کر کے خوش خیالیوں سے باہر آنا ضروری ہے۔جہاں تک کہ خدا کا بیٹا ہونے کا سوال تھا اس کا جواب تو پہلے گزر چکا ہے کہ یسوع بہر حال خدا کا بیٹا نہیں۔جہاں تک یسوع کے صلیب پر مرنے اور کفارہ کی بات ہے تو اس تعلق سے بائبل کا مطالعہ کرنے سے ایسی آیات ملتی ہیں جن کا مضمون اس طرح ہے کہ کوئی جان