حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 12
سے لیتے ہیں۔بائبل میں مسیح کا نسب نامہ یوں درج ہے :- " جب یسوع خود تعلیم دینے لگا تو برس تیں ایک کا تھا اور ( جیسا کہ سمجھا جاتا تھا ) یوسف کا بیٹا تھا اور وہ عیلی کا۔۔۔اور وہ انوش کا اور وہ شیت کا اور وہ آدم کا اور وہ خدا کا تھا“ (لوقا باب ۳ آیت ۲۳-۳۸) میں نے درمیان کا نسب نامہ چھوڑ دیا ہے شروع اور آخر کا نوٹ کیا ہے آیت نمبر ۲۳ میں لکھا ہے کہ میخ یوسف کا بیٹا تھا۔(جیسا کہ سمجھا جاتا ہے ) کے الفاظ بریکٹ میں رکھ کر یہ بات صاف ظاہر کر دی گئی ہے کہ یہ الفاظ بائبل کے نہیں ہیں بلکہ اس کا ترجمہ کرنے والے نے شامل کئے ہیں اس لئے بریکٹ میں رکھا گیا ہے۔بائبل تو مسیح کو یوسف کا بیٹا تسلیم کرتی ہے اور پھر آگے یوسف کا نسب نامہ آدم تک بیان کرتی ہے اور آدم کو خدا کا بیٹا قرار دیتی ہے۔بات صاف ظاہر ہے کہ اگر آدم کو خدا کا حقیقی بیٹا مانا جائے تو پھر مسیح تک جو بھی آدم کی اولاد سے پیدا ہوئے سب خدا کے حقیقی بیٹے پوتے پڑپوتے کہلائے اور مسیح بھی پڑپوتا لکڑ پوتا تو ہوسکتا ہے لیکن بیٹا نہیں کیونکہ دُنیا والوں نے ایسے ہی قانون بنائے ہیں۔اور ایک مسیحی بھی ایسا نہیں ہے جو کہ آدم کو خدا کا بیٹا تسلیم کرتا ہو۔پس اگر آدم مسیحی حضرات کے نزدیک خدا کا بیٹا نہیں تو پھر مسیح جس کو بائبل آدم کی نسل سے بیان کرتی ہے کس طرح خدا کا بیٹا ٹھہر سکتا ہے۔اسی طرح ایک دوسری جگہ اس طرح لکھا ہے کہ :- " یسوع مسیح ابن داؤد ابن ابراہیم کا نسب نامہ (متی بابا آیت ا)