حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 11 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 11

اسی طرح یسعیاہ میں لکھا ہے کہ :- ” تم میرے گواہ ہو۔خداوند فرماتا ہے اور میرا بندہ بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تا کہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ میں وہی ہوں مجھ سے آگے کوئی خدا نہ بنا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔“ (یسعیاہ باب ۴۳ آیت (۱۰) پس ایک ایسے خدا کا عقیدہ رکھنا جس کا نہ کوئی باپ ہو اور نہ کوئی بیٹا، بائیل کی صحیح تعلیم کا منشاء ہے اگر اس کے برعکس کوئی عقیدہ رکھتا ہے تو وہ بائیبل کی تعلیم کے برخلاف ہے اُسے اپنے عقیدہ کی اصلاح کر کے توحید پر قائم ہونا ضروری ہے۔ابن اللہ یا ابن آدم ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کی طرف ضرور منسوب کرتا ہے اور جس کی طرف وہ اپنے آپ کو منسوب کرے وہی اُس کا نسب قرار پاتا ہے۔زید کا بیٹا زید ہی کو اپنا باپ قرار دے گا۔اگر کوئی اُسے کہے کہ تو زید کا بیٹا نہیں بلکہ عمر کا ہے تو وہ اس کو قبول نہیں کرتا۔ہر بیٹا اپنے باپ کی طرف منسوب ہو کر اپنے لئے عزت کا مقام پاتا ہے اور اگر کوئی اس کا نسب تبدیل کرے تو اُسے غصہ آتا ہے اور ہر جگہ اس بات کی اصلاح کرتا پھرتا ہے۔اس جگہ بھی ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا مسیح نے بھی اپنا نسب بیان کیا ہے اور پھرا اپنا نسب کس کی طرف پھیرا ہے۔مسیح نے اپنے آپ کو بار بار جس کی طرف منسوب کیا ہے لازما وہی مسیح کا نسب ہوگا اور اگر کوئی اُس کے برعکس اُس کا نسب کسی اور طرف منسوب کرتا ہے تو یہ ایک ظلم ہوگا اور انتہام ہوگا جو اس پر لگایا جاتا ہے۔اس بات کا جائزہ بھی ہم بائبل کی