حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 10
ہیں۔لکھا ہے :- یسوع نے اُس سے کہا مجھے نہ چھو کیونکہ میں اب تک باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جاکر اُن سے کہہ کہ میں اپنے باپ اور تمہارے باپ کے اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس او پر جاتا ہوں۔“ (یوحنا باب ۲۰ آیت ۱۷) حضرت مسیح نے اپنے باپ کو سب کا باپ فرمایا ہے گویا کہ میت خود جس کے بیٹے ہیں اُن کے بھائی بھی اُسی کے بیٹے ہیں اور مسیح کا خدا باقیوں کا بھی خدا ہے۔ان حوالہ جات سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ بائیل کی تعلیم کی رُو سے خدا ایک ہے اور اُس کا کوئی حقیقی بیٹا نہیں اسی طرح حضرت مسیح کو جن معنوں میں بیٹا کہا گیا ہے اُن معنوں میں صراط مستقیم پر چلنے والے تمام خدا کے بیٹے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم حضرت مسیح کے متعلق اور خدا کے متعلق وہ عقیدہ رکھیں جو بائیبل کا عقیدہ ہے کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی بیٹا نہیں۔اور بالکل یہی عقیدہ اسلام کا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ :- قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ، اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدُ : وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَده الاخلاص آیت ۲ تا ۵) یعنی ( ہم ہر زمانہ کے مسلمان کو حکم دیتے ہیں کہ تو ( دوسرے لوگوں سے ) کہتا چلا جا کہ (اصل) بات یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں) نہ اُس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔اور (اس کی صفات میں ) اُس کا کوئی بھی شریک کا رنہیں۔لیس ہمارا یہ فرض بن جاتا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا کوئی بیٹا نہیں اُس کا کوئی باپ نہیں اور وہ تمام چیزوں پر قادر ہے اور اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں۔اسی بات پر ایمان رکھنا ہماری نجات کے لئے ضروری ہے۔