حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 107
1+2 علم نہیں ہوتا کہ کب اور کدھر چمکے گی اُسی طرح وہ ظاہر ہوگا جس کی شہادت اس طرح بھی بائیل میں ہے کہ :- پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا شام کو یا آدھی رات کو یا مرغ کے بانگ دیتے وقت یا صبح کو ایسا نہ ہو کہ اچانک آکر وہ تم کو سوتا پائے اور جو میں تم سے کہتا ہوں وہی سب سے کہتا ہوں کہ جاگتے رہو۔“ (مرقس باب ۱۳) پس آنے والا مسیح تو وقت پر اچانک آیا اور جو جاگتے تھے انہوں نے اُس کو قبول کیا اور جوسوتے تھے اُنہوں نے ابھی تک اُس کو نہ دیکھا۔اور نہ مانالیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسیح کے آنے کا وقت یہی تھا اور لوگ منتظر بھی تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا (۴) چوتھی بات جو اس میں صداقت مسیح کی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا آنا پورب کی طرف سے ہوگا۔جو کہ بجلی پورب سے کوندھ کر پیچھنم تک دکھائی دیتی ہے سے ظاہر ہے۔پس حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام جو قادیان پنجاب میں پورب سے ظاہر ہوئے اور اُن کی زندگی ہی میں اُن کے نشان پچھتم والوں نے دیکھے اور الیگزنڈر ڈوئی امریکہ کے باشندہ نے پچھم میں آپ کی صداقت کا نشان دکھا دیا۔اور آر کے مقابل میں آپ ہی کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا۔(۵) - آپ کی صداقت کا پانچواں نشان جو بائیل میں درج ہے جس کے آپ مصداق ٹھہرے وہ یہ ہے کہ :-