حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 106 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 106

وو 1+4 اور سورج اور چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہو نگے اور زمین پر قوموں کو تکلیف ہوگی۔“ (لوقا باب ۲۱) سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ چاند اور سورج اُس وقت تاریک ہوتے ہیں جب انہیں گرہن لگتا ہے۔یہ گرہن کا نشان مسیح کی صداقت کا آسمانی نشان قرآن، حدیث، بائیبل اور ہندوؤں کی کتب میں بھی ٹھہرایا گیا ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا کہ مجھے خدا نے میسیج بنا کر بھیجا ہے تو یہ ایسا ہی دعویٰ تھا جیسا یوحنا نبی کا تھا جس کو ایلیاہ کا مثیل بنا کر بھیجا گیا تھا۔اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والا مسیح ایک گمنام بستی میں سے ظاہر ہو گا جس کے متعلق خود مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیان بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر غار پس آپ کا اچانک اور گمنام جگہ سے دعوی کرنا بائیبل کی پیشگوئی کے عین مطابق تھا پھر آپ کے دعوئی کے بعد ۱۸۹۶ء میں سورج اور چاند کو رمضان کے مہینہ میں اور مقررہ دنوں میں گرہن ہو کر سورج اور چاند کے تاریک ہونے کا نشان پورا ہوا۔اس پر مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار (۳) تیسری بات جو سیخ کی صداقت کی بائیبل میں درج ہے وہ یہ ہے کہ جیسے بجلی پورب سے کوندھ کر پچھتم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کا وو آنا ہوگا“ (متی باب ۲۴) اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ جس طرح بجلی اچانک چمکتی ہے اور کسی کو