حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 104
Jesus come soon کہ مسیح جلد آنے والے ہیں مگر اُن کے خیالوں میں بسا مسیح جو اُن کے نزدیک بادلوں میں ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے آسمان سے نہیں آئے۔قارئین ! جو آسمانوں پر گیا ہی نہ ہو وہ آسمانوں سے آ کیسے سکتا ہے۔یہاں آسمان پر جانے اور آنے کی مثال ایلیاہ نبی کے آسمان پر جانے اور پھر یوحنا کے رنگ میں واپس آنے سے دی جاسکتی ہے جبکہ بائیل میں لکھا ہے کہ حضرت الیاس بگولے میں بیٹھ کر آسمان پر چلے گئے تھے اور آج تک یہود اُن کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں اُن کے نزدیک نہ ایلیاہ آسمان سے اُترے ہیں اور نہ ہی مسیح پیدا ہوئے ہیں اگر مسیح کی دی گئی شہادت کو مسیحی قبول نہ کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مسیحی بھی اور مسلمان بھی یہود کی طرح آنے والے بچے مسیح کو قبول کرنے سے انکاری رہیں گے۔حضرت مسیح کے بارے میں جو آسمان کے بادلوں کے ساتھ آنے کی بات ہے وہ ایک : خواب کی حالت ہے اور اس کی وضاحت دانی ایل نبی نے کی ہے لکھا ہے کہ میں نے رات کی رویتوں کے وسیلے دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا۔اور قدیم الایام تک پہنچا وہ اُسے اُس کے آگے لائے اور تسلط اور حشمت اور سلطنت اُسے دی گئی کہ سب قو میں اور اُمتیں اور مختلف زبان بولنے والے اُس کی خدمت گزاری کریں۔اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت ایسی جو زائل نہ ہوگی۔“ 66 ( دانی ایل باب ۷ آیت ۱۳ ، ۱۴) پس رات کی رویتوں کے وسیلے سے یہ بات دیکھی کہ آخری زمانہ قدیم الایام “ ایک شخص آسمان کے بادلوں میں آیا ہے۔پس اگر کوئی خواب میں آسمانوں سے آتا کسی کو دیکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کو آسمانی تائید حاصل ہے۔گویا کہ خدائی تائید حاصل ہے اسی لئے وہ غالب آئے گا اور آنے والے کے متعلق یہی لکھا ہے کہ :-