حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 5 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 5

حقائق بالمیل اور مسیحیت عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ توریت میں ایلیا کے آسمان سے اترنے کی جو پیشگوئی ہے اس سے مراد یہ نہیں کہ واقعی ایلیا آسمان سے ظاہری طور پر اُترے گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایلیا کی مانند ایک مصلح آئے گا جس کو آسمانی تائید حاصل ہوگی اور اس پیشگوئی کا مصداق یوحنا کو قرار دیتے ہیں جو کہ مسیح سے قبل آئے تھے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ :- " اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا کہ پھر فقہیہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایلیا کا پہلے آنا ضروری ہے۔اُس نے جواب میں کہا۔ایلیا البتہ آئے گا اور سب کچھ بحال کرے گا۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیا تو آچکا اور انہوں نے اس کو نہیں پہچانا۔بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کیا۔اس طرح ابن آدم بھی اُن کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا۔تب شاگرد سمجھ گئے کہ اُس نے ہم سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔“ (متی باب ۱۷ آیت ۱۰ تا ۱۳) اس لحاظ سے عیسائی ملا کی نبی کو پیشگوئی کے مطابق آنے والے ایلیا کو بھی تسلیم کرتے ہیں جو کہ یوحنا کی صورت میں ظاہر ہوئے اور مسیح کو بھی مانتے ہیں جن کا آنا ایلیا کے بعد لکھا ہے۔اس لحاظ سے عیسائی بائیل کو اپنی مذہبی کتاب اور شریعت تسلیم کرتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام پر ابتداء میں ایمان لانے والے موحدین تھے اور اُسی توحید کے عقیدہ پر قائم تھے جو حضرت عیسی علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات کے مطابق تھا۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اعتقادی اور عملی طور پر توحید کے بنیادی عقیدہ کو چھوڑ کر تثلیث کے عقیدہ کو اپنا لیا ہے اور باپ بیٹا۔روح القدس کو تثلیث مقدس Holy Trinity مان کر ایک تین اور تین ایک کی ناقابل فہم منطق کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا بائیل عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید توحید کی تعلیم پیش کرتے ہیں یا تثلیث کی۔اس لحاظ سے ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔