حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 51 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 51

۵۱ تیسرے دن جس سے مراد اٹھائیس سے لیکر چھتیس گھنٹے کا وقت بنتا ہے ہوش میں آجاتا ہے۔ایسے ہی حضرت مسیح علیہ السلام ہوش میں آکر قبر سے باہر نکل گئے جو کہ ایک کمرہ نما قبرتھی۔دسویں شہادت حضرت مسیح علیہ السلام جب رات کے اندھیرے میں اپنے حواریوں سے ملے تو وہ ڈرے اور ان کو خیال آیا کہ شاید یہ روح ہے جو کہ ہمارے سامنے آگئی ہے کیونکہ سوائے چند کے باقی یہی یقین کر گئے تھے کہ مسیح صلیب پر مر گئے ہیں۔اور ایسا یقین کرنے والوں میں اول نمبر پر وہ تھے جنہوں نے مسیح کو پکڑوایا تھا یا وہ تھے جولعنت کر کے تھوک کر اور قرعہ اندازی کر کے کپڑے لیکر چلے گئے تھے اس لئے اُن کو خوف ہوا کہ یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں اُن کو بالکل یقین نہ ہوا لکھا ہے کہ : وو -: وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع آپ اُن کے بیچ میں آکھڑا ہوا اور اُن سے کہا تمہاری سلامتی ہو۔مگر اُنہوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی رُوح کو دیکھتے ہیں۔اُس نے اُن سے کہا کہ تم کیوں گھبراتے ہو؟ اور کس واسطے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں۔میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو۔اور یہ کہہ کر اُس نے انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اُس نے اُن سے کہا کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ اُنہوں نے اُسے بھنی ہوئی مچھلی کا قبلہ دیا اُس نے لیکر اُن کے رُوبرو کھایا۔“ (لوقا باب ۲۴ آیت ۳۶ تا ۴۳) اس حوالہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حواریوں نے جس وجود کو دیکھا وہ مسیح کا وجود تھا اور جسم تھا صرف روح نہ تھی کیونکہ مسیح نے انہیں اپنے ہاتھوں پیروں کے نشان دکھائے