حمد و مناجات — Page 3
3 اظہار تشکر کے انتہائی شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنے والدین کی طرف سے صدقہ جاریہ کے طور پر اس کتاب کا خرچ ادا کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی طرف سے تحفہ میں ملنے والی طلائی چوڑیاں لجنہ کے سپر د کر دیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اعلیٰ علیین میں مقامِ قرب عطا فرمائے اور آپ کے خاندان کو نسل در نسل اپنی رضا کی راہیں نصیب فرمائے۔آمین اللھم آمین۔”میرے والد محترم محمد بخش میر صاحب 1898 ء میں پیدا ہوئے نیک مزاج، سعادتمند اور ذہین تھے میٹرک میں پنجاب بھر میں اول آئے تھے اعلی تعلیم حاصل کر کے وکیل بنے 1922ء میں اپنے ماموں محترم محمد ابراہیم میر صاحب آف ڈسکہ کی تحریک پر احمدیت قبول کی۔جماعت سے انتہائی گہری وابستگی تھی۔عملاً دین کو دنیا پر مقدم رکھتے 35 برس تک پہلے گوجرانوالہ اور پھر ضلع گوجرانوالہ کے امیر جماعت رہے لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس کے دوران بھی حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر صدارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔گوجرانوالہ کی وکلاء بار کے صدر تھے کشمیر کے لئے قابل قدر خدمات کا موقع ملا۔70 برس کی عمر میں فالج کا حملہ ہوا معذوری کی سی حالت میں بھی حضرت خلیفہ اسیح ثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ کوئی جماعتی خدمت کا کام عنایت فرمائیں آپ نے فرمایا کہ آپ جماعت کے لئے دعائیں کریں۔چنانچہ دل و جان سے احمدیت کی ترقی کے لئے دعائیں کرتے ہوئے 1981ء میں انتقال فرمایا بہشتی مقبرے میں مدفون ہیں۔