حمد و مناجات — Page 141
141 جناب سید محمد الیاس ناصر دہلوی صاحب تری حمد و ثنا میں پھر رواں ہے اب قلم میرا کہاں تو اور کہاں یہ خامنہ عاجز رقم میرا ازل سے ہے ابد تک رحمتوں کا سلسلہ جاری کہاں تک اب یہ لکھے گا دل عاجز رقم میرا ترا قرآن کعبہ ہے محبت اور رحمت کا اسی کے گردگھوموں گا ہے جیتک دم میں دم میرا جہاں ہر جھکنے والے سر کوملتی ہے سرافرازی اُسی درگاہ میں ہوگا سر تسلیم خم میرا سرمو ہٹ نہیں سکتا قدم راہ اطاعت سے تیرے دین مبیں کی آن پر نکلے گا دم میرا مجھے جو کچھ ملا ہے تری رحمت کا کرشمہ ہے ترقی پر ترے ہی لطف سے ہے ہر قدم میرا یقیناً یہ ترے الطاف پیہم کا کرشمہ ہے بہ ایں الائشِ دامن بھی قائم ہے بھرم میرا الہی فضل سے اپنے دکھا یثرب کی وہ گلیاں کہ جن گلیوں میں پھرتا تھا کبھی شاہ اہم میرا ملے گی آنکھ کیونکر حشر میں اُس شاہ خوباں سے یہی ہے فکر میری کرب میرا اور غم میرا خطاؤں کے سوا دامن میں میرے کچھ نہیں ناصر رہے گا حشر میں قائم بھلا کیونکر بھرم میرا ( کلام ناصر )