حمد و مناجات — Page 134
134 2 روح کے جھروکوں سے اذن خود نمائی دے مجھ کو بھی تماشا کر، آپ بھی دکھائی دے اشک ہوں تو گرتے ہی ٹوٹ کر بکھر جاؤں شور میرے گرنے کا دور تک سنائی دے تو نے درد دل دے کر میری سرفرازی کی اب اے درد کے داتا درد سے رہائی دے لخت لخت ہو کر میں منتشر نہ ہو جاؤں ایک ذات کے مالک ذات کی اکائی دے پور پور تنہائی، انگ انگ سناٹا جس طرف نظر اٹھے، آئینہ دکھائی دے بولنے کی ہمت دے بے صدا مکانوں کو اب تو بے زبانوں کو اذن لب کشائی دے یا نه کھٹکھٹا نے دے اور کوئی دروازہ یا نہ ہم فقیروں کو کاسہ گدائی مضطر اپنی بے نگاہی پر عرق عرق ہوں روح بھی ہے شرمندہ جسم بھی دہائی دے دے الفضل 23 جنوری 2003ء)