حمد و مناجات

by Other Authors

Page 131 of 171

 حمد و مناجات — Page 131

131 جناب مصلح الدین راجیکی صاحب 1 ہے وہ جانِ عالم نہاں بھی ہوکر نگاہِ دل سے نہاں نہیں قدم قدم پر عیاں ہے لیکن قدم قدم پر عیاں نہیں ہے وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے ظاہر وہی ہے باطن کوئی بھی ہستی نہیں ہے ایسی وہ جس کی روح رواں نہیں ہے یہ اپنی اپنی نظر ہے ورنہ اسی زماں میں اسی مکاں میں کئی ہیں ایسے بھی طور جن کا کسی کو وہم و گماں نہیں ہے ہے نہ سرفرازی سے کوئی مطلب نہ سرفروشی سے کوئی خطرہ رہ محبت کے رہرووں کو خیال سودوزیاں نہیں کبھی ستانا کبھی رلانا کبھی کسی کا لہو بہانا! ذرا تو سوچواے چیرہ دستو! کہ کیا غریبوں میں جاں نہیں ہے یہ کس نے تم کو بتا دیا ہے کہ اس ستم کی سزا نہ ہوگی زمیں یہ اب وہ زمیں نہیں ہے کہ آسماں آسماں نہیں ہے ( الفرقان مئی 1964ء)