حمد و مناجات — Page 122
122 جناب چوھدری عنایت اللہ صاحب احمدی تیرے صدقے تیرے قربان پیارے مولیٰ تیرے ان گنت ہیں احسان پیارے مولیٰ کہہ کے گن تو نے ہی پیدا کیا اس عالم کو زندگی اور تناسب دیا اس عالم کو یہ سمندر ، یہ ہوا، ساری زمیں سارے سماء اپنے محبوب کی خاطر انھیں پیدا ہے کیا چاند سورج کو، ستاروں کو سجایا تو نے اپنی مخلوق کی خدمت میں لگایا تو نے ابھی پیدا نہ ہوئے تھے کہ غذا تھی موجود سانس لینے کے لئے تازہ ہوا تھی موجود بادل آتے ہیں ہمیں پانی پلانے کے لئے فصلیں اُگتی ہے ہمیں کھانا کھلانے کے لئے احمد کی کون ہے؟ احسانوں کا کرلے جو شمار ہے کرم تیرا ہی انسانوں میں ہے اپنا شمار جسم خاکی کے لئے تو نے فتا رکھی ہے روح انساں کے لئے تو نے بقاء رکھی ہے انبیاء تو نے ہی بھیجے تھے زمانے کے لئے روح انساں کو تباہی سے بچانے کے لئے مصطفی پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت نور سے جس کے ملی روح کو پوری راحت (مصباح ستمبر 1993ء)