حمد و مناجات — Page 117
117 جناب راجہ نذیر احمد ظفر صاحب ہے فریب نظر عالم رنگ و بو ہے جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو فروزاں تیرا نور ہے مہر و مہ میں درخشاں ستاروں میں خود تو ہی تو ہے عنادل میں چرچا ترے حسن کا ہے گلوں میں تیری نگہت و رنگ و بو ہے غضب سے تزلزل پہاڑوں میں بر پا کرم سے گلستاں میں ذوقِ نمو ہے ترے حسن سے تانا بانا جہاں کا تیری قدرتوں کا یہ سب تارو پو ہے کیا اپنی فطرت پر بندوں کو پیدا صفت ہے وہ تیری جو بندے کی خو ہے تحتی تری ہر زمان و مکاں میں ظفر جس طرف رُخ کرے قبلہ رُو ہے میں احباب تیری محبت کے مظہر تیرے قہر کی اک علامت غدو ہے محمد کے صدقے نظر وہ ملی ہے که جلوہ ترا شش جہت چار سُو ہے تیرے خوف سے میری توبہ ہے قائم جہاں بھی ہوں میں تو مرے رو برو ہے شہادت یہ دیتی ہے ہر دم خدائی تو قریہ بہ قریہ ہے اور کو بکو ہے ملی مخلصی دہر کی باو ہو بسا روح میں جب سے باہو کا ہو ہے ہے قریں تر رگِ جاں سے بھی تو ہے لیکن عجب ہے کہ پھر بھی تری جستجو تو نزدیک ہوکر بھی ہے دور اتنا کہ پیم تری دید کی آرزو ہے حقیقت کی مئے سے ہوں سرشار ہر دم مجازی مرا گرچه جام و سبو ہے حجازی ترانے عجم کی زباں میں ظفر گارہا ہے عجب خوش گلو ہے