حمد و مناجات — Page 150
150 محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ 1 ہوئی سجدہ ریز میں جو تو ز میں نے دی دُہائی که مرا خراب کر دی تو به سجده ریائی مجھے گود میں اٹھا یا، مجھے سینے سے لگایا مرے کام آگئی ہے یہ مری شکستہ پائی تجھے کیا خبر ہے زاہد ! اسے کیا پسند آئے؟ میری حالت ندامت! ترا فخر پارسائی یہ تری صلوٰۃ وجہ نہ بچی کسی نظر میں تجھے کر رہا ہے رسوا ترا شوق خود نمائی تری محفلوں کا واعظ ! وہی رنگ ہے پرانا وہی تیری کم نگا ہی ، وہی تیری کج ادائی نہ یہاں ہی پوچھ تیری ، نہ وہاں مقام تیرا نہ خدائی معترف ہے ،نہ خُدا سے آشنائی یہ حیات وموت کیا ہے ، یہی گردش زمانہ یہی عارضی سی فخر بت ، یہی عارضی جدائی اسے کاش نہ خبر ہو کہ مالِ زیست کیا ہے بڑے شوق و آرزو سے جو کلی ہے مسکرائی تیری رحمتوں کا مالک ! مجھے چاہئے سہارا ہے یہ وقت کسمپرسی ہے یہ دور نارسائی یہ مکین پستیوں کے بڑا ناز کر رہے ہیں مرے مہرباں ! دکھا دے ذرا شانِ کبریائی تری غیرتوں کا طالب ، تری نعمتوں کا عادی ترے سامنے پڑا ہے مرا کاسہ گدائی جو دیا ترا کرم ہے نہیں مجھ میں بات کوئی نه طریق خوش کلامی، نہ ادائے دلر بائی ہیں ترے حضور حاضر یہ ندامتوں کے تحفے میری زندگی کا حاصل، مری عُمر کی کمائی (مصباح نومبر 1984ء)