حمد و مناجات — Page 119
119 جناب سید ادریس احمد عاجز کرمانی صاحب ، بھی نافذ حکم رپ کن فکاں ہو جائے گا فضل سے اس کے دگر رنگ جہاں ہو جائے گا رنج و غم کی رات اندھیری سر بسر کٹ جائے گی مہر فرحت چرخ پر جلوہ کناں ہو جائے گا ہے دُعاؤں پر ہی اپنی زندگی کا انحصار بس اسی سے مہرباں رب یگاں ہو جائے گا درد دل سے جو دعا مانگیں وہ ہوتی ہے قبول خشک صحرا بھی برنگ گلستاں ہو جائے گا گرید پیہم ہمارا رنگ لائے گا ضرور برق سے محفوظ اپنا آشیاں ہو جائے گا قدرت حق سے نہیں ہے بات یہ ہرگز بعید قطرة ناچیز بحر بے کراں ہو جائے گا آرہا ہے اب دبے پاؤں انوکھا انقلاب جانب کعبه رخ دورِ زماں ہو جائے گا بالیقیں ہو کر رہے گا پرچم باطل نگوں دور دورہ حق کا زیر آسماں ہو جائے گا گردش دور زماں وہ وقت اب لانے کو ہے فاتح مکہ جہاں کا حکمراں ہو جائے گا عاجز عاصی جب ہوگی نگاہ لطف حق روز محشر اس وا باب جناں ہو جائے گا