حمد و مناجات — Page 97
97 جناب رشید قیصرانی صاحب راولپنڈی 1 مجھے کیا خبر کہ وہ ذکر تھا، وہ نماز تھی کہ سلام تھا مرا اشک اشک تھا مقتدی، تیرا حرف حرف امام تھا ترے رُخ کا تھا وہی طنطنہ ، مری دید کا وہی بانکپن کہ بس ایک عالم کیف تھا ، نہ سجود تھا نہ قیام تھا میں ورائے جسم تیری تلاش میں تھا مگن ، مجھے کیا خبر کہ ہر ایک ریزہ تن میں بھی تیری جلوتوں کا نظام تھا مجھے رت جگوں کی صلیب پر زر خواب جس نے عطا کیا وہی سحر ، سحر مبین تھا ، وہی حرف ، حرف دوام تھا مجھے عرش و فرش کی کیا خبر ، مجھے تو ملا تھا جہاں جہاں و ہی آسماں تھی مری زمیں ،وہی فرش عرش مقام تھا مرے دسترس میں جو آ گیا ، ترے حُسن کا کوئی وہی سلطنت میرے حرف کی وہی تاجدار کلام تھا تیرے گنج لب سے رواں دواں، وہ جو ایک سیل حروف تھا اُسے لہر لہر سمیٹنا اسی کملی والے کا کام تھا زاویه