حمد و مناجات — Page 66
66 جناب چوہدری نعمت اللہ خانصاحب گوہر میں شکر کس زباں سے تیرا کروں خدایا اپنے کرم سے تو نے مجھے بنایا قرآن مجھ کو بخشا ، ایمان مجھ کو بخشا عرفان اپنا بخشا نور بدی دکھایا پھیلی ہوئی جہاں میں جب چار سو تھی ظلمت تیرے نبی نے آکر پیغام حق سُنایا انوار دیں سے یکسر عالم ہوا منور مردہ زمیں کو آب رحمت سے پھر جگایا دنیا و دیں کے انعام اتنے ملے جہاں کو جن کا نظیر ڈھونڈے سے بھی نظر نہ آیا ادنی غلام اس کے کرتے ہیں بادشاہی کس قدر تخت اس کا اونچا گیا بچھایا آئے ائمہ دیں سب دور مشکلیں کیں حملوں سے دشمنوں کے اسلام کو بچایا تادیں کی شان و شوکت آگے سے ہو فزوں تر وعدے کو پورا کرنے تیرا مسیح آیا آواز صور گونجی، محشر کا شور اُٹھا سوتے ہوؤں نے خواب غفلت سے سر اٹھایا کچھ اس طرح سے چپکا وہ چودھویں کا مہتاب عالم تمام اس کی کرنوں سے جگمگایا اب تک سرور اُسکا باقی ہے میرے دل میں وحدت کا جام پیارے ساقی نے جو پلایا اے میرے رب اکبر! اے میرے بندہ پرور! فضل و کرم کا تیرے کس نے ہے انت پایا و گوہر کو بھی بھی عطا ہو درگہ میں باریابی جس نے یہ نغمہ تیری حمد و ثنا میں گایا