حمد و مناجات — Page 65
65 2 نہ تڑپ خیال بت میں تو خدا کا یار ہو جا تیرا پیار ہو اسی سے، سے، اُسی ثار ہوجا نہ خزاں کی کچھ غمی ہو۔نہ بہار کی خوشی ہو کسی گل کی یاد میں تو میری جان خار ہو جا در یار تک رسائی، ابھی تک نہیں جو پائی وہ تو ملا کے اپنی ہستی ہمہ تن غبار ہو جا ہ طریق میں بتاؤں کہ ہو دین کی اشاعت تو نمونہ بن کے اچھا، ہمہ اشتہار ہو جا جو کرے گا تو تواضع تو عُروج یا ہی لے گا دل داغدار لے کر، مہ نور بار ہو جا کسی کام کی نہیں ہے تری ہو شیاری اکمل کسی مصطبہ میں جاکر ابھی بادہ خوار ہوجا (بدر 19 اکتوبر 1911ء)