حمد و مناجات — Page 142
142 جناب افتخار احمد نسیم صاحب آنسوؤں کی پھر کوئی برسات لے کر آ گیا ہاں ترے کوچے میں آدھی رات لے کر آ گیا آہ وزاری کس قدر ہے آستانے پر ترے دیکھ کیسی بے بسی ہے اک دوانے پر ترے مانگنے کا وصف تو مجھ میں نہیں میرے خدا دے رہی ہے تیری رحمت پھر بھی مجھ کو حوصلہ بن تیرے کوئی نہیں ہے دیکھ میرے چارہ ساز جانتا ہے تو خدایا میرے دل کا راز راز بخش دے میری خطائیں سن لے مری التجا منتظر رحمت کا ہوں تیری مرے حاجت روا میں ہوں تیرا، تو ہے میرا، جانتا ہے ہر کوئی تیرے در سے ہی مرادیں مانگتا ہے ہر کوئی کون میرا ہے جہاں میں بجز ترے میرے خدا کس سے مانگوں میں شفا کی بھیک پھر تیرے سوا مانگنے آیا شفا میں اپنے پیارے کیلئے تو شفا دے دے اے شافی اپنے پیارے کیلئے شافی مطلق شفا دے سارے پیاروں کو مرے اور سکون دل عطا کرغم کے ماروں کو مرے اب نسیم بے نوا کی بس یہی ہے اک دعا تو شفاؤں کا ہے مالک کر عطا ان کو شفا (الفضل 16 نومبر 2002ء)