حمد و مناجات — Page 121
121 جناب عبید اللہ علیم صاحب گزرتی ہے جو دل پر دیکھنے والا فقط تو ہے اندھیرے میں اجالا دھوپ میں سایہ فقط تو گدائے دہر کا کیا ہے اگر یہ در نہیں وہ ہے ہے تیرے در کے فقیروں کی تو گل دنیا فقط تو ہے تو ہی دیتا ہے نشہ اپنے مظلوموں کو جینے کا ہر اک ظالم کا نشہ توڑنے والا فقط تو ہے وہی دنیا وہی اک سلسلہ ہے تیرے لوگوں کا کوئی ہو کر بلا اس دیں کا رکھوالا فقط تو ہواؤں کے مقابل بجھ ہی جاتے ہیں دیئے آخر ہے مگر جس کے دیئے جلتے رہیں ایسا فقط تو ہے عجب ہو جائے یہ دنیا اگر کھل جائے انساں پر کہ اس ویراں سرائے کا دیا تنہا فقط تو ہے ہر اک بے چارگی میں بے بسی میں اپنی رحمت کا جو دل پر ہاتھ رکھتا ہے خدا وندا فقط تو میرے حرف و بیاں میں آنسوؤں میں آبگینوں میں جو سب چہروں سے روشن تر ہے وہ چہرہ فقط تو ہے ہے