ہماری کہانی — Page 12
۱۲ آنکھ غوری تھی بہت بچپن کی باتوں میں سے ایک اور بات ذہن پر نقش ہے بابا ہم کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتے تھے بلکہ بات کو اس طرح سمجھاتے کہ ذہن نشین ہو جاتی۔ایک روز بابا اخبار پڑھ رہے تھے۔ہم کسی تقریب سے آئے تھے پھوپھی جان اور باجی آپس میں باتیں کر رہی تھیں کہ فلاں نے اپنے کپڑوں کی قیمت بہت بڑھا چڑھا کر بتائی سراسر غلط بیانی سے کام لیا جبکہ ہم اصلی قیمت سب کو بتا دیتے ہیں۔کیوں نہ ہم بھی بڑھا کر بتایا کریں۔بابا نے بڑے پیار سے دونوں کو بلایا اور کہا۔بیٹا ان لوگوں نے معمولی کپڑوں کی قیمت تو بڑھا دی مگر تم نے غور نہیں کیا کہ اپنی قیمت خلط کی نظروں میں گرادی" اس طرح کی نصائح تھیں کہ آج جب میں پلٹ کر اپنی زندگی پر نظر ڈال رہی ہوں تو اور برائیاں تو نظر آ رہی ہیں مگر جھوٹ کا کہیں شائبہ بھی نہیں ملتا۔اللہ پاک ہمیشہ محفوظ ہی رکھے آمین۔1ء میں بہار کا قیامت خیز زلزلہ آیا۔زلزلے کے جھٹکے کلکتہ میں بھی محسوس ہوئے مگر ہمارے بابا اس وقت موتی پور میں تھے اور وہاں شدید زلزلہ آیا تھا۔ستائیسواں (۲۷) روزہ تھا۔بابا نے بتایا کہ وہ اپنے مکان میں تھے۔غسل کر کے باہر آئے تو زلزلہ محسوس ہوا۔اوپر کی منزل سے نیچے کود گئے اور اسی لمحہ سب مکان کسی کھلونے کی طرح زمین پر آرہے۔خدا تعالیٰ نے بابا کی جان بچائی بلکہ مل بھی بچائی۔موتی پور میں گیارہ ملیں تباہ ہو گئیں صرف بابا کی شوگر مل بچ گئی۔بابا نے تباہی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔حو صلے والے جاندار آدمی تھے۔اللہ تعالیٰ نے خود کو سنبھالے رکھنے کی ہمت دی۔زمین نے اپنا رہا نہ کھول کر بہت سا حصہ زمین مکانوں اور مکینوں سمیت ہڑپ کر لیا۔کہیں سے چشمے