ہماری کہانی — Page 19
۱۹ کو بھی طلاق دلوائی جائے گی اور اس کے شوہر کو نوکری سے نکال دیا جائیگا یونس عثمان نے سارے فیصلے ایک ساتھ سنا دیئے۔دادی نے کہا دو میں اپنے بیٹے کو کیوں چھوڑ دوں کبھی ماں بیٹا بھی جدا ہوئے ہیں۔ساری عمر اس نے جسے پیار سے سنبھالا ہے۔" تو پھر ایک ہی صورت ہے اسے کہو نئے دین سے تو بہ کرے “ دادی بیچاری اس لازوال نشے سے بالکل ناواقف تھیں جس سے ان کا بیٹا بیسر منور تھا ایک دم پاؤں پڑنے لگیں اور منت سماجت کرنے لگیں۔تو بہ کر لو بیٹا ورنہ میری بیٹیوں کا کیا ہوگا۔اس بڑھاپے میں تم سے الگ نہ رہ سکوں گی۔بابا نے بڑے پیار سے سمجھایا کہ میں یہ دین نہیں چھوڑ سکتا۔آپ اگر میرا ساتھ نہیں دے سکتیں تو میں صبر کر لوں گا۔اسی طرح رحمت بائی اس کا شوہر اور بچے جو بھی میرا ساتھ نہ دے سکے گائیں برداشت کر لوں گا۔فی الحال مجھے کچھ وقت سوچنے کا دیں۔یونس عثمان صاحب کے گھرانے کے سب بچوں سے میری دوستی تھی اور دھم و معما چوکڑی مچائے رہتے۔اس سارے واقعے سے ہمارے کھیلنے میں کوئی فرق نہ پڑا۔سوائے اس کے کہ میں اپنے گھر کی کیفیت کو دیکھ سمجھدار ہوگئی تھی۔وہ سب نادان بچی سمجھ کر سب پروگرام بناتے اور سمجھتے کہ میں بھلا کیا سمجھوں گی مگر مجھے سمجھ مخفی اور میں سب کھڑی آکر اماں کو سناتی۔امی کے آنسو بہہ رہے ہوتے مگر میں آتی تو اماں توجہ سے بات کو سنتیں جس سے مجھے احساس ہوا کہ میں کوئی اہم کام کر رہی ہوں۔پھر میری بوا کو بھی منع کر دیا کہ ہماری خدمت نہ کرے۔نوکر بھی آپس میں باتیں کرتے کہ ان کے گھر اب کام نہیں کرنا۔پھر وہ رات آئی جو ہمیشہ آنکھوں میں جاگتی رہتی ہے۔بابا نے ہم کو کمرے میں