ہماری کہانی

by Other Authors

Page 114 of 124

ہماری کہانی — Page 114

۱۱۴ کینسر نہیں تھا۔پھر بھی بڑا آپریشن کروانا پڑا۔حالات کی سنگینی کی وجہ سے کنٹونمنٹ میں کرایہ کا گھر لیا۔یہاں میجر منظور صاحب ان کی اہلیہ اور بیٹی زجانہ سے بہت دوستی ہوئی کافی رشتہ دار ہمارے یہاں جمع ہو گئے۔احمد بھائی کے خاندان کو خود جا کر لائے۔احمد بھائی کلکتہ میں ہی تھے۔کراچی آئے تو محمد صاحب سے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی ہمیں میجر منظور صاحب نے بروقت نوٹس دیا کہ فوراً کراچی چلے جائیں۔آہستہ آہستہ سب رشتہ دار کراچی پہنچے۔ہم ایک دفعہ پھر خالی ہاتھ تھے مگر اللہ پاک پر بھروسہ کی دولت ساتھ تھی۔ایک بنگالی نوکر کا ذکر نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔آپا رابعہ کا نوکر تھا۔کمرے میں باہر تالا ڈال دیا اور تختے کے نیچے چھپے رہے۔اس طرح جانیں بچ گئیں۔وہ بدھسٹ تھا۔احمدی ہوا اور ہمارے خاندان کے فرد کی طرح رہتا تھا۔احمدیوں میں شادی ہوئی۔باجی عائشہ اور عظیم بھائی کا یہ ہوا کہ سقوط ڈھاکہ سے کچھ دن پہلے عظیم بھیا ہارٹ فیل سے وفات پاگئے۔ان پر اللہ کا احسان ہوا کہ ربوہ لانے کے سامان عیب سے ہو گئے۔باقاعدہ چندہ دیتے تھے اور بہت کچھ جماعت کو دینے کی وصیت کر رکھی تھی۔ہمارے خاندان کے ایک فرد کو ریوہ میں تدفین نصیب ہوئی پہر ایسے موقع پر بابا اور اتاں کی قربانیاں بہت یاد آتیں۔پھر ڈھا کہ خالی ہوا۔ایسا صدمہ ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔کراچی میں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔شاہین سینٹ جوزف کالج میں داخل ہوئی۔اچانک بیمار ہوئی ہیں سال کی عمر تھی۔پکی نمازی تھی۔آخری نماز اس طرح پڑھی کہ گلوکوز لگا ہوا تھا۔اس بچی کو موت کی طرف اشارہ کرنے والے خواب آرہے تھے۔میں ان کی تعبیر شادی کی کرتی۔شادی کی تیاری ہو رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصتی کا پیغام آگیا۔وہ جنت کی حور رخصت ہوگئی۔انا للہ