ہماری کہانی

by Other Authors

Page 100 of 124

ہماری کہانی — Page 100

نے آکر بتایا۔دو برقعہ والی عورتیں آئی ہیں کچھ جھکتے ہوئے بلا کر بٹھایا وہ بے تکلفی سے صوفہ پر تشریف فرما ہوئیں اور میرا ہی لکھا ہوا خط دکھا کر پوچھا۔" آپ ہی رفیعہ سلطانہ ہیں" میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ہمارے گھر تشریف لانے والی احمدی بہنیں تھیں۔یہ محترم صدیق بانی صاحب کی اہلیہ آپا زبیدہ صاحبہ اور ان کی بھابھی تھیں۔وہ ہمارے حالات سے اچھی طرح باخبر تھیں خوب کھل کر باتیں ہوئیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ابھی اور مطالعہ کروں۔پھر بیعت کروں۔انہوں نے رابطہ کا وعدہ کیا اور حسب وعدہ میرے گھر نور کا دریا بہنے لگا الفضل حضرت مسیح پاک کی کتب، ان کی بیٹی چپکے سے لا کر دے دیتی اور میں ایک دن میں پڑھ جاتی۔کسی کو خبر نہ تھی میں کسی عالم سے گزر رہی ہوں۔باجی عائشہ سے رابطہ تھا۔خاکسار رفیعہ سلطانہ کچھ اہمیت نہیں رکھتی کہ اپنے قبول احمدیت کے واقعات قلمبند کروں اور قارئین کرام کا قیمتی وقت لوں مگر صرف اس خیال سے کہ بابا کی دعاؤں کا دھارا کہاں تک بہتا رہا۔میں یہ حالات ضرور لکھوں گی کہ کس طرح ہم بہنوں اور پھر ہمارے شوہروں کو جو بابا کے درخت کی شاخیں ہیں احمدیت سے پیوستگی نصیب ہوئی میں نے ذکر کیا تھا کہ باجی عائشہ کو ہم سے زیادہ احمدیت کے عقائد کا علم تھا۔بابا قبولیت احمدیت کے بعد اپنی حیات میں اکثر بیمار رہے حسیں حد تک وہ ہم میں ایمان کو راسخ کر سکے وہ بتاتے رہتے۔عقائد اور دلائل کا علم مطالعہ سے ہوا۔ایک دفعہ باجی کے نوکر کو ہسپتال داخل ہونا پڑا۔اس نے وہاں سے باجی کو خط لکھوا کر ڈالا۔باجی نے خط کھولا تو اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم - وعلى عبد المسیح الموعود لکھا تھا۔باجی ہسپتال گئیں اور