ہماری کہانی — Page 90
9۔ہے ہمارے اب تمین روز باقی ہیں۔اس سے تیسرے دن احمدی احباب سلیم صاحب اور شمس الدین صاحب عیادت کے لئے تشریف لائے تو بابا جان نے اپنا کشف سنایا اور بہت دعائیں پڑھیں۔وہ آمین کہتے رہے۔پھر ڈاکٹر سرکارنے انجیکشن لگایا جو جسم نے قبول نہ کیا۔جس دن بابا فوت ہوئے میں سکول نہ جا سکی۔دل کی کیفیت عجیب تھی۔باجی عائشہ کا خیریت معلوم کرنے کے لئے فون آیا تو بابا نے کہلا دیا۔میری فکر نہ کرو۔اپنے سسرال والوں کی خاطر تواضع کرد۔دوپہر کے کھانے کا وقت آیا تو ہمیں نہ بر دستی کھانے کیلئے بھیج دیا۔دعائیں دیتے رہے صبر کی تلقین کرتے رہے۔ہم دستر خوان پر تھے جب آیا رابعہ پہلے اٹھ کر بابا جان کے پاس پہنچیں تو وہ آخری سانس لے رہے تھے نہیں گیارہ سال کی تھی۔بے اختیاری میں منہ سے نکلا۔بابا۔بابا ہم نیم ہو گئے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔امی نے نبض پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔سب ارد گرد جمع تھے۔تھوڑا آپ زمزم پلایا گیا۔اللہ کا بلاوا اپنے صابر شاکر بہادر بندے کیلئے آچکا تھا۔ریحانہ معصوم حیران ہو ہو کر پوچھ رہی تھی میرے بابا جان کو کیا ہو گیا ہے اسے کیا خبر تھی کہ بابا جس سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے اس نے اپنے پاس بلا لیا ہے۔وہ پوری دفا کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ہم نے انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعون پڑھا اور ان کے اوپر چادر ڈال دی۔یہ سانحہ ۱۳ ۱۹۳۹ ء مطابق ۲۲ ذوالحجہ (۳۵ را بروز دوشنبہ دوپہر کے ڈیڑھ بجے - لا فروری پیش آیا۔چند لفظوں کے لئے میں نے سوچا یہ عظیم شخص میں کو الوداع کہنے کے لئے صرف اس کی بیوی پیچھے ، ایک مہین اور پڑوسی ملول کھڑے ہیں کیسی دنیا کے سفر پر جاتے تو جہاز کے ڈیک پر آدھا حصہ ان کے چاہنے والوں کا ہوتا تھا گرم جوشی گوداع