ہماری کہانی — Page 89
کی خاطر تواضح کر کے بیٹی تھیں اور مہمان ابھی گھر پر ہی تھے کہ کوئی صاحب بابا سے ملنے کے لئے آئے۔ان کے جانے کے بعد بابا نے ہمیں بلایا اور نوٹوں کی بارش سی کر کے گلو گیر آواز میں بتایا کہ پرانے مالک کا بیٹا آیا تھا کہ حکومت نے انکم ٹیکس کا کچھ روپیہ لوٹایا تھا وہ کافی عرصے سے ان کے پاس پڑا تھا۔بابا جان نے کہا تھا خدا کا خزانہ کبھی خالی نہیں ہوتا۔ہم کمزور بندے ہیں مگر وہ پیارا خدا اپنا پیار بڑھانے کی خاطر ہمارا صبر آزماتا ہے تاکہ ہم زیادہ جھکیں پھر زیادہ لطف اندوز ہوں۔یہ ہمار لئے خدا تعالیٰ نے اس وقت تک روکے رکھا جب آخری چونی بھی ختم ہوگئی۔یہ جہان توفانی ہے۔مخمل کے گدے پر سوئیں یا ٹاٹ پر نیند تو سب کو آئے گی سورج بھی سب کے لئے ایک ہی زاویہ سے طلوع ہوگا۔بادشاہ ہو یا گداگر مسیح موعود کو ماننے والوں کی تربیت کے سامان ہوتے رہتے ہیں۔شکر ہے اس قادر و توانا کا کہ ہم مسیح کی جماعت میں ہیں۔اسے خدا ! تو ہمیشہ ہم پر کرم کی نگاہ رکھنا۔جب یہ رقم غیب سے آئی۔بابا مقروض تھے۔بابا نے قرض ادا کر دیا اور کچھ مزودی اخراجات کئے۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی۔بابا اس کے بعد دو ماہ زندہ رہے اللہ تعالیٰ انہیں مقروض نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔بابا بے حد کمزور ہو گئے۔امی جان نے جی جان سے خدمت کی۔ایک دن روشنی گل تھی۔امی جان بابا کی پائنتی پر لیٹی تھیں کہ بابا نے زور سے دعلیکم السلام کہا۔کوئی آیا تھا نہ گیا۔امی نے اُسے خواب سمجھا۔بابا جان نے بتایا کہ کمرے کے دروازے پر ایک پر نور سفید ریش شخص نے آکر مجھے سلام کہا اور میں نے اس کے سلام کا جواب دیا۔اس بزرگ شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور میرے قریب بستر پر آکر بیٹھ گئے میں نے معذرت کے ساتھ پوچھا کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔کہا میں وہ شخص ہوں جو صالح محمد داؤد کی وفات سے تین روزہ پیشتر آیا تھا۔یہ خواب سنا کر امی سے کہا۔رقیہ ایسا لگتا