ہماری کہانی — Page 75
۷۵ اپنے اپنے علماء کی پیروی کا نام حتی ہے ؟ اگر یہی درست ہو پھر سب کے سب حق پر میں پھر یہ سر پھٹول کیوں ہے۔اگر کہا جائے کہ ہم لوگوں کو یہی کرنا چاہئیے کہ جو جہاں پیدا ہوا ہے وہیں رہے تو پھر حق اور باطل کا کوئی معیار ہی نہیں رہتا۔یہودی عیسائی ہندو سب کے سب اپنے اپنے علماء اور مشائخ کی پیروی کرتے ہیں یہ سب جہنم میں کیوں جائیں گے اور پھر رسالت نبوت وغیرہ سب ایک بیکار چیز ہے کیونکہ کوئی کسی کی نہ سنے۔معیار ہے اور ضرور ہے اور ہمارے لئے تو ایک ہنی معیار ہے اور وہ سب سے بہتر معیار ہے اور وہ ایک ہی معیار ہے کہ خان تنازعتم فی شئ فَرِّدُوهُ إِلَى اللهِ والرَّسُول (النساء : 4) کہ اگر تم میں کوئی تنازعہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے طرف لوٹو نہ کہ علماء کی طرف اللہ تعالی بنی اسرائیل کو ملزم کرتا ہوا کہتا ہے کہ اتَّخَذُوا احْبَارَهُمْ وَرُهْبَا لَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ الله (التوبه : ۳۱) کہ انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ارباب پکڑ رکھا ہے۔اوپر غضب نازل کرنے کے وجوہات میں سے ایک یہ بھی وجہ بتائی ہے اور پھر ہم کو کہتا ہے لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِم عبرة لاولی لا کباب وہ بنی اسرائیل کے علماء ہی تھے جنہوں نے حضرت عیسی کے خلاف کفر و الحاد کے فتوے لکھے اور ان کو صلیب۔پر مار ڈالنے کی کوشش کی اور ان ہی کے فتاویٰ نے بنی اسرائیل کو حق سے روکا۔اور پھر انہی یہود و نصاریٰ کے علماء کے فتووں پر چلنے والے رسول اکرم روحی فداہ پر ایمان لانے سے محروم رہ گئے۔ایمان اپنی کو نصیب ہوا جو ان فتاری سے بھاگے اور اپنی قوم اور علماء کی طرف سے دکھ اور سختی اٹھاتے رہے اور پھر اسلام کے اندر بھی یہی حضرات ہیں جنہوں نے اسلام کے بڑے بڑے بزرگان دین کو تکلیفیں دیں اور خوب خوب فتوے لکھے۔اللہ کا حکم سن چکے اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ان کے حق میں سن لیجیے۔عَنْ عَلَى قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى اللہ علیہ وسلم - يُشَكُ