ہماری کہانی — Page 74
۷۴ وہ آپ جانتے ہیں کہ پورا نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔دوسری بات یہ کہ مجھے مولویوں کے فتووں کی بنا پر اپنی بیوی بچوں سے علیحدہ ہو جانے کی کوشش بھی پوری نہیں ہوئی اور نہ دنیا کی کوئی قوت مجھے علیحدہ کر سکتی ہے سوائے موت کے یا پھر اگر اللہ تعالیٰ ایسا چاہے اور وہ کچھ اور اسباب پیدا کر کے ہم کو علیحدہ کر دے پھر کیا وجہ ہے کہ آپ اور میں ایک جگہ نہ رہ سکیں یا آپ اپنے بچوں کے پاس نہ رہ سکیں یا ان سے اپنی خدمت جو آپ کا حق ہے نہ لے سکیں۔میں آپ اور بچے سب اس کی وجہ سے تکلیف اٹھائیں اور فتویٰ دینے والے مولوی اور مخالفت کرنے والے سب اپنے اپنے گھر خوش رہیں اور اس کی بنا صرف اور صرف غلط فہمی پر ہو لہذا میں اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے چند باتیں لکھ رہا ہوں جس کو مہربانی کر کے اطمینان سے پڑھ لیں اور اس پر خوب غور و فکر کر لیں۔آپ کو شاید یہ خیال ہوگا طریقہ میں نے آپ کو تبلیغ کرنے کا نکالا ہے حاشا و کلا ہر گز یہ مقصود نہیں ہے تبلیغ زبردستی نہیں ہوتی۔آپ جب مجھے خوشی سے موقعہ دیں گے تو میں ضرور تبلیغ کر دنگا اور اپنا نقطہ نظر بتاؤں گا۔مگر اس خط میں ہرگز یہ مقصود نہیں ہے بلکہ بد قسمتی سے ان مولویوں کی وجہ سے جو غلط فہمی ہے اس کو میں صرف حنفی سنت جماعت کے نقطۂ نظر سے صاف کرنے کی کوشش کرتا ہوں اس پر خدا کے لئے غور فرمائیے : آپ نے مجھ سے لکھنو میں فرمایا تھا کہ ہم لوگ مجبور ہیں علماء حنفی سنت و الجماعت کے فیصلوں کے مطابق عمل کرتے ہیں۔اس کے متعلق مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ بات ہے کہ علماء حنفی سنت و الجماعت سب کے سب اس پر متفق نہیں ہیں اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے تو کہا جائے گا کہ اگر یہی معیار حق و باطل کا ہو تو جو اس قدر فرقہ اسلام میں ہیں وہ سب کے سب اپنے علماء کے پیر د ہیں اور سب ہی اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے کو غلط اور اکثروں کو کافر قرار دیتے ہیں تو پھر کیا