ہماری کہانی

by Other Authors

Page 49 of 124

ہماری کہانی — Page 49

۴۹ (1) میں اپنی رائے اور اپنے عقیدہ پر پوری طرح مضبوطی سے قائم ہوں اور اس سے ذرہ بھر ہٹنے کو تیار نہیں۔(۲) چونکہ آپ کے فتادی میرے لئے قابل تسلیم نہیں ہیں۔میں اپنی بیوی اور بچوں کے حقوق سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں۔بہر حال وہ میری بیوی اور بچے ہیں جب تک میں زندہ ہوں خواہ میرے عقائد سے ان کو اتفاق ہو یا اختلاف موت صرف ایک موت ہی ہے جو ان تعلقات کو ختم کر سکتی ہے (۳) ذکیہ کی شادی کے لئے آپ نے اجازت طلب کی محنتی مگر افسوس ہے کہ موجو دہ حالات میں میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔بیوی اور بچوں کو میں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے حوالہ کر کے چلا تھا اور آج بھی اسی رازق العباد کے حوالہ کرتا ہوں۔وہی ان کی حفاظت اور کفالت کرے گا۔اور اپنے خزانہ غیب سے رزق عطا کرے گا۔اس درمیان میں ان کی اس تکلیف و مصیبت میں۔اس دو طرفہ کشمکش میں جو بھی ان سے ہمدردی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم کا استحق ہوگا اور جو بھی ان کی اس بے کسی اور مجبوری میں اپنے کسی قول سے فعل سے عمل سے زبان سے ان کا دل دکھائے گا اس کو ڈرنا چاہیے کہ مظلوم کی آہ خالی نہیں جاتی۔گناه گار عبد الستار یہ ہے میرا قطعی اور آخری فیصلہ جس پر اللہ تعالیٰ مجھے قائم رکھے اور میں نے اپنا منہ اس کی طرف کر لیا ہے۔میرے لئے بیشک بہت سخت ابتلا ہے مگر الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے صحیح فیصلہ کی توفیق دے دی۔رقیہ