ہماری کہانی

by Other Authors

Page 47 of 124

ہماری کہانی — Page 47

۴۷ پوچھا کہ معاذاللہ وہ کافرہم سے کہتا کیا ہے۔یہی نا کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَمِنو بِاللهِ وَرَسُولِ ہے اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ امَةِ رَسُولاً اَنِ اعْبُدُ والله وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ (النحل : ۲۷) اور تمام انبیاء کی سنت کے مطابق فَاتَّقُو اللهَ وَاطِيْعُون۔یہی آواز ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے تیرہ سو برس بعد حضرت مسیح ناصری نے اٹھائی تھی۔پھر یہی آواز ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو برس بعد ان کے ایک غلام غلام احمد نے اٹھائی اور اسی طرح راتاً اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِداً كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رسولاً (المزرتل (14) کی پوری مشابہت ہوگئی۔گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم اور اگر میں نے کچھ گناہ کیا ہے تو سب سے بڑا گناہ گار اس معاملہ میں وہ ہے جس کی حدیث دار قطنی میں ہے کہ اِن لِمَهْدِينَا آيَتَيْن لَمْ تکونا منذ خلق السمواتِ وَالْأَرْضِ يَنكَسِفُ القَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رمَضَان وتتكيف الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ جو میں پورا ہوا۔پھر صرف اتنا ہی نہیں۔ہمارے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ آئے تو اسے میرا سلام پہنچانا۔سبحان اللہ۔قادیانی قرآن کا ترجمہ تو غلط کرتے ہیں مگر کیا آسمان پر چڑھ کر چاند اور سورج کو گرہن بھی لگا سکتے ہیں۔اے کاش آپ اپنا وقت ضلع ، طلاق اور تجدید نکاح وغیرہ میں ضائع کرنے کے بدلے نیک نیتی سے وَالَّذِيْنَ جَاهِدُوا فِينَا لَنمريم سبنا پر عمل کر کے اجر عظیم کے مستحق ہوتے۔مجھے خود کو باوجود ان تکالیف کے کسی سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے امتحان