ہماری کہانی — Page 42
۴۲ سمجھو۔اس پر تدبر کرو۔اسے ہر وقت پڑھو، صبح پڑھو، شام پڑھو ہر نماز میں لازم کر دیا ہے کہ ایک حصہ ضرور پڑھو۔یہیں تم کو تفرقہ اور گمراہی سے بچائے گی اس کو پکڑے رہو تو صراط مستقیم پاؤ گے ہدایت اور اس کی رحمت اور فضل پاؤ گے اور اس کے خلاف علماء فرمائیں گے کہ ہرگز نہیں اسے اٹھا کر رکھ دو۔پڑھو نہیں سمجھو نہیں دیکھو نہیں بغیر حدیث اور تغییر اقوال الرجال کے پڑھو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔اور ایسے ہی نام نہاد علماء کے لئے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ان الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ ما تَنَاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنْهُمُ اللهُ وَيَلْعَنهُم الله عنونَ (البقره: ۱۶۰) کاش ایک ہی مرتبہ آپ اس کو جانچنے کے واسطے قرآن پڑھتے اور اس پر تدبیر کرتے تو معلوم ہو جاتا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں یا نہیں۔اللہ کا بیان سچا ہے یا ان علماء کا۔ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ مخاطب کون ہیں۔ہم آپ یا علماء قرآن پاک میں يَا أَيُّهَا النبی اور یا ایها الرَّسُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ يَا أَهْلَ الكتاب ہے یا پھر يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمنوا ہے۔کہیں ایک جگہ بھی یا ایها العلماء نہیں ہے تو پھر کیا اس یا جبروت دربار میں یہ جواب بن پڑے گا کہ ہم علماء کی پیروی کرتے ہیں جس کے لئے اس نے منع کیا تھا ؟ کیا ہم اس طرح چھوٹ جائیں گے ؟ کیا وہ خدا یہ نہیں پوچھے گا کہ ہم نے تم کو کیا حکم دیا تھا ؟ اگر اس پر بھی سمجھ نہ آئے اور آپ ان کی پیروی میں ہی نجات سمجھتے ہیں تو اچھی بات ہے پھر اس پر دوسروں کو بھی مجبور کرنا اور