ہماری کہانی — Page 21
۲۱ یہی زندہ کلام الہی ہے جس سے میں ہر وقت باتیں کرتا ہوں اور مجھے میری ہر بات کا جواب ملتا ہے اور میرا پورا یقین ہے کہ یہ جواب سچا ہے اور ایسا ہی ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ بظاہر تم لوگوں کو ابھی نظر نہ آیا ہو اور کچھ دیر لگے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اس پر تم لوگوں کو اطمینان ہو جانا چاہیئے۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کو بہ مرا یہی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب قوم بادشاہ وقت اور باپ نے تکلیف دی تو یہ کہ کر روانہ ہو گئے اِن ذاهب الى رَبِّي سَيَهْدِينِ یعنی میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں وہی مجھے ہدایت دے گا۔میں نے اس پر عمل کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ایک ایسے جلیل القدر پیغمبر کی نقل کرنے کے صدقے میں میرے گناہوں کو بخش دے۔اب نیچے کی آیتوں پر پوری طرح غور کرو۔انَّ الَّذِينَ تَوَهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي اَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ قَالُوا نا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ اَرْمِنَ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَا جِرُ وا فِيهَا النار (۹۸) فَأُولَبِكَ مَا وَهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيراً لا یعنی جب گناہ گاروں کی روح فرشتے قبض کر رہے ہوں گے تو کہیں گے کہ تمہارا کیا حال ہے وہ کہیں گے ہم ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔وہ جواب دیں گے کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے پس ان لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور وہ رہنے کے لحاظ سے بہت ہی بری جگہ ہے یا یہ تو حکم ہے میرے لئے جس پر میں عمل کر رہا ہوں۔تم لوگوں کے لئے جو حکم ہے وہ بھی سن لو الا المُسْتَضْعَفينَ مِنَ التِي جَالِ وَالنِّسَاءِ وَالوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ جَلةً