ہماری کہانی

by Other Authors

Page 20 of 124

ہماری کہانی — Page 20

جمع کیا۔اور اس طرح سمجھایا کہ ہماری آزمائش کا وقت آگیا ہے۔میں یہاں رہا تو وہ ہر وقت طلاق کی دھمکیاں دیں گے اور سب کا سکون غارت کریں گئے ہیں عارضی طور پر تم لوگوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا۔میری نصیحت ہے۔صرف جائے نمازہ پر اللہ سے فریاد کرنا۔وہ رازق ہے تمہیں رزق مہیا کرے گا۔طلاق وغیرہ کے کسی کاغذ پر دستخط نہ کرنا۔بچوں کا خیال رکھنا۔میں عظیم بھائی کے پتہ پر اطلاع دیتا رہوں گا۔بابا نے مدن لال سے کچھ رقم۔ادھار لی۔احمد کبیر نے باقی انتظام کیا اور وہ بابا جن کو دل کی تکلیف تھی خاموشی سے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر ٹرین سے روانہ ہو گئے۔میرے بچپن کی انمٹ یادوں میں ایک یہ بھی ہے کہ ادھرادھر جائزہ لے کر کہ نوکر چاکر سامنے نہیں، ابا کو سیڑھی سے آثار نا تھا۔اب میں پہلے بابا جان کے پہلی منزل پر پہنچنے کے بارے میں بتا دوں پھر کہوں گی ہم پر کیا گزری۔میری سارہ پھوپھی کی شادی لکھنو میں ہوئی تھی۔شادی کے بعد وہ پہلی دفعہ کلکتہ آنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک بابا لکھنو ان کے گھر پہنچے گئے۔وہ بہت خوش ہوئے۔پھوپھا کو کسی کام سے کلکتہ آنا تھا۔ان کے ہاتھ بابا جان نے خط بھیجا۔پھوپھا نے خفیہ آکر دادی کو خیریت بنائی اور خط بھی دیا۔یہ خط جذبہ ایمانی سے بھر پور ہے اس لئے درج ہے: رقیه ! ونجينهُ وأَهْلَهُ مِنَ الكَرْبِ العَظِيمِ اور ہم نے اسکو اور اُسکے اہل کو مصیبت عظمی سے نجات دیدی آج صبح کو پہلی مرتبہ قرآن شریف کھولنے پر سب سے پہلے جس آیت پر نظر پڑی دہ اوپر میں لکھی ہے اور میرا تو دین ایمان اسلام مذہب مشرب جو کچھ ہے وہ