ہماری کہانی — Page 15
۱۵ گھر میں رہتے۔ہم بھی چھٹیوں میں وہاں جاتے تو بڑا لطف آنا چھا کا نام نورمحمد داؤد تھا بابا جب جادا میں تھے تو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔پانچ لڑکے اور ایک لڑکی پسماندگان میں تھے۔بابا تو ان کی سرپرستی بھی قبول کرنے کے لئے تیار تھے مگر پاسپورٹ وغیرہ کا مسئلہ ہو گیا۔بچوں کے خالو نے بڑے لڑکے کو اپنی فرم میں ملازمت دے دی اور اپنی منجھلی بیٹی سے رشتہ بھی کر دیا۔تین کو علی گڑھ کالج بھیج دیا اور سب سے چھوٹے بیٹے نور محمد کو پھو پھی اپنے ساتھ لے گئی۔یہ سب کردار ہماری داستان میں شامل ہیں اس لئے ذکر کر دیا۔بات ہو رہی تھی بابا جان کی بیماری اور بے روند گاری کی۔امی نے جب بابا کو پریشان دیکھا تو اپنا زیور کا صندوق لا کر بابا کے آگے رکھ دیا۔اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی۔ایک ایک زیور بکتا رہا اور سارے کنبے کا خرچ چاہتا رہا۔کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ اس پریشانی کے وقت کس طرح گزارا ہوا۔ایسے حالات تھے " جب بہن کی شادی عظیم بھائی سے ہوئی۔بابا کی پریشانی میں ان کے واقف کار ان کا حال پوچھنے آتے۔ان میں کچھ احباب احمدی بھی تھے۔بابا کی شریف مزاجی اور مطالعے کے شوق سے واقف تھے۔انہیں محسنوں نے کتابوں کی شکل میں روحانی خزائن سے ہمارا گھر بھر دیا۔بابا تقریباً ہر وقت مطالعہ کرتے۔پھر لمبی لمبی نمازیں پڑھتے۔ان کی کیفیت بدل گئی تھی۔امی کبھی خرچ کا مطالبہ کرتیں تو کہتے سب کا رازقی خدا ہے اس سے مانگو۔سجدہ میں مانگو وہی دے گا۔خود بھی دعاؤں میں مصروف رہتے۔بابا کا انہماک دیکھ کر لاہوری جماعت کے کسی شخص نے بھی بابا کو کتا ہیں دیں۔بابا نے استخارہ کیا تو دیکھا کہ دو طرف نماز با جماعت ہو رہی ہے ایک جماعت کے تمام افراد نماز پڑھتے پڑھتے سو گئے اور دوسری جماعت نے بڑی عمدگی سے