ہماری کہانی — Page 14
۱۴ فکر مند مت ہونا۔اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرو۔سیٹھ صاحب آجائیں تو مل ان کے حوالے کر کے نکلوں گا " عبد الستار دادی اماں نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس پیغا مبر کو دعائیں دیں۔ہم سب بے حد ممنون ہو رہے تھے۔یہ پُر عزم و حوصلہ پیغامبر ایک احمدی تھے۔جن کا نام سید نورالحسن صاحب تھا۔ہماری شکر گزاری پر وہ انکسار سے جواب دیتے ہم تو سیٹھ صاحب کو اس قدر چاہتے ہیں کہ ان کے لئے جان بھی حاضر ہے۔امی نے اپنی خیریت کی اطلاع بھجوائی۔پھر ہمیں علم ہوا کہ بابا جان بہت بیمار ہو گئے ہیں۔ان کو ہارٹ کا پرابلم تھا۔امی جان مجھے لے کر چھا کے ساتھ موتی پور پہنچ گئیں۔میرے تو عیش ہو گئے۔میں سات سال کی تھی۔امی تیمار داری میں مصروف رہتیں اور میں خوب کھیلتی۔وہاں ہر طرح کے خوشی کے سامان تھے۔پڑوس میں سید نورالحسن صاحب کی فیملی رہتی تھی۔وہ بابا کے ماتحت تھے مگر آپس میں دوستانہ ماحول تھا۔بابا نے تین ماہ کی چھٹی لی اور ہم سب کلکتہ آگئے۔بابا اپنی خدمات کی وجہ سے علاج کے خرچ اور پنشن کا حق رکھتے تھے مگر اچانک اطلاع ملی کہ بابا کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کا کوئی فنڈ نہیں دیا گیا حالانکہ مل کے ایک مالک سیٹھ عبداللہ ہارون صاحب رشتہ میں بابا کے خالو تھے۔بیماری میں یہ جھٹکا لگا مگر اس میں اللہ پاک کی حکمت تھی۔وہ قادر و توانا خدا ان کو دنیا دی سہاروں سے بے نیاز کر کے اپنا بنانا چاہتا تھا۔اس لاچاری میں میری امی نے بڑی وفاداری سے بابا کی خدمت کی۔میری امی بہت دانا عورت تھیں میرے نھیال کے حالات بھی عجیب تھے۔نانا عیاش آدمی تھے۔گھر میں سکون نہ تھا۔داماد سے بھی نبھا کر نہ رکھی۔لہذا امی بہت کم نانا نانی کے گھر جا سکتیں۔امی کے ایک چا تھے بہت پارسا پر ہیز گار تھے۔دیہات میں بہت زمینیں تھیں۔حویلی نما