ہماری کہانی — Page 13
۱۳ ابلنے لگے کہیں پرانے تناور درخت جڑوں سے اکھڑ کر اڑنے لگے گھڑ گھڑا ہٹ کا کان پھاڑتا ہوا ہنیتناک شورِ قیامت اور لوگوں کی خوفزدہ چیخیں، افراتفری کا عالم تھا کچھ ہوش و حواس درست ہوئے تو بابا نے زمین پر خیمہ لگایا اور بیٹھ رہے۔لوگوں نے مشورہ دیا کہ یہاں سے نکل جائیں۔بابا کا جواب تھا۔مالکوں نے مل میرے حوالے کی تھی میں اس طرح کیسے چھوڑ کر جاسکتا ہے۔عید کا دن تھا۔ہمیں کچھ خبر نہ تھی بابا کس حال میں ہیں۔اتنے میں اختبار آیا جس میں لکھا تھا کہ بہار کی گیارہ ملیں تباہ ہو گئیں۔صرف سیٹھ عبد الرحیم عثمان صاحب کلکتہ والے کی شوگر مل بچ گئی وہ ایک خیمہ میں فروکش ہیں یا ہر سے امداد بھیجوائی جا رہی ہے۔یہ عید اس طرح منائی گئی کہ سب خاندان والے اور سیٹھ یونس عثمان صاحب کے اہلِ خاندان جمع ہو کر اور رو رو کر دعائیں کرتے رہے انہوں نے بڑی ہمدردی اور پیار کا سلوک کیا۔بابا کو علم نہیں تھا کہ ہمیں ان کے بچ جانے کی خبر مل گئی ہے۔پندرہ دنوں کے بعد ورکروں کو بلا کر مشورہ کیا کہ کس طرح گھر والوں اور سیٹھ عبد الرحیم صاحب تک اطلاع پہنچائی جائے۔جان جوکھوں کا کام ہے۔کوئی سٹرک کوئی سواری ریل گاڑی میسر آنا مشکل ہے۔اسی فکر میں تھے کہ ایک چالیس سالہ شخص اور ان کے بیٹے نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔سفر کی صورت یہ نکالی کہ سائیکل کے پیچھے ایک تختہ لکڑی کا باندھ لیا اور کھانے پینے کا کچھ سامان لیا۔جہاں رستہ کی ناہمواری یا پانی آجانے سے دشواری ہوتی تختہ رکھ کر نکل جاتے۔کسی کسی جگہ ٹرین بھی مل جاتی جو رینگ رینگ کر چلتی۔اس جانفشانی سے سفر کرتے ہوئے وہ موتی پور پہنچے اور بابا کا رفعہ امی جان کو دیا۔بابا نے لکھا تھا:۔دو رفیہ میں زندہ ہوں۔سلامت ہوں خیمہ میں دن گزار رہا ہوں۔