ہماری کہانی — Page 113
١١٣ جان آگئی منفی۔اللہ پاک نے مدد کی اور وہاں سے چھپتے چھپاتے نکل کر جانیں بچیں۔ان سب حالات کو دیکھ کر جون ۱۹۶۴ء میں منظاہر حسین صاحب نے کمپنی فروخت کردی۔بیعت کی منظوری کا خط ۶۴ - ۷ - ۳۱ کو موصول ہوا۔ہماری پاکستان جانے کی اپیل منظور ہوئی تو احمد بھائی نے آخری حربہ کے طور پر تنگ کرنے کی اسکیم بنائی اور ہر طرف مشہور کیا کہ محمد صاحب کو ان کے تو ہزار روپے ادا کرنے ہیں۔انکم ٹیکس آفیسر کو بھی کہ دیا تا کہ کلیرنس نہ دے مگر خدا کے معجزہ نے مدد کی اور کلیرنس دے دی میں نے سارا سامان فروخت کیا۔ملک پور میں والد کا مکان فروخت کیا اور چپکے چپکے تیاری کرلی۔کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور معمولاً سب کام کرتے ہوئے خاموشی سے اٹھے اور ہوائی جہاز سے بحفاظت ڈھا کہ پاکستان پہنچ گئے۔محمد صاحب کو کھلنا میں جاب ملا خوشی خوشی فرنیچر، پردوں کا آرڈر دینے لگے مگر میرا د معیان تو اس طرف لگا تھا کہ کہیں احمدیت کا قرب نصیب کرے۔ایک ملال برابر بے چین رکھتا کہ پردہ کرنے کی کوئی صورت نہیں بنی تھی۔آئے دن بڑی بڑی دعوتیں ہوتیں۔میں نے تنگ آکر ڈھاکہ رہنے کا فیصلہ کیا۔جماعت کے ساتھ وابستگی میتر آئی اور اس معاہدے پر پردہ کی اجازت مل گئی کہ جب محمد صاحب آئیں گے تو بغیر برقعہ اور باقی وقت برقعہ خیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی دعاؤں سے یہ بھی میستر آیا۔سات سال اسی طرح گزرے۔میری بچی شاہین میری مشیر اور دوست متھی۔بڑی سعید فطرت ، اطاعت گزار۔ذہین اور نیک۔سچے خواب دیکھتی۔بڑا پٹیا CA کر رہا تھا۔باہر سے گھر آکر بتاتا کہ بنگال کے حالات کا رخ علیحدگی کی طرف جا رہا ہے۔یہاں سے نکل جانا چاہیئے۔ہر وقت خطرات سر پر منڈلاتے رہتے۔اچانک مجھے شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ڈاکٹروں کا خیال تھا بریسٹ کینسر ہے۔مگر