ہماری کہانی — Page 48
۴۸ میں ڈالا ہے میں اس پر صابر ہوں اور اسی سے اجر کا طالب۔میری زندگی اور موت کا بھی کوئی سوال نہیں ہے جہاں مقدر ہوگی ، ہوگی مگر صرف میری تمنا اور دعا ہے جس طرح آج سے ساڑھے پانچ سو برس پہلے ہماری قوم کو اسلام لانے کی توفیق دی اسی طرح آج بھی توفیق عطا کر اور اس میں اگر اس نے مجھے اس درخت کے بیج بن کر مٹی کے لئے چن لیا ہے تو آپ کو اور میرے محسن مرتی یونس بھائی کو السابقون الاولون میں داخل کر دے آمین۔کیا آپ مہربانی فرما کر قوم کے ہر فرد کو اور جو سوشل بائیکاٹ میں شریک ہیں یہ اتمام حجت سنا دیں گئے تاکہ ہر شخص اپنا معاملہ جو اللہ تعالیٰ سے ہے اس میں خود فیصلہ کرے یا سب کی ذمہ داری آپ لینے کو تیار ہیں از قادیان المورته ۸ رجون شله فقط مہاجر فی سبیل اللہ گناہ گار عبدالستار رقیہ۔میں نے آج بذریعہ رجسٹری تمہارے والد کو اپنا آخری فیصلہ لکھ دیا ہے اور وہ حسب ذیل ہے۔میرے محترم بزرگ۔مجھے افسوس ہے کہ جواب میں دیر ہوئی اور آپ کو بہت انتظار کرنا پڑا مگر مجھ کو میری تحقیقات میں جو ایک کسر تھی وہ یہاں آگر نظروں سے دیکھنے اور جانچنے سے پوری ہوگئی اور میں نے معاملات پر بہت اچھی طرح غور اور فکر کر لیا ہے اور آپ کی تین باتوں کا جواب حب ذیل ہے۔