ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 89 of 255

ہمارا خدا — Page 89

پادریوں سے اور مسلمان اپنے مولویوں سے اور ہندو اپنے پنڈتوں سے اور دوسرے لوگ اپنے دینی علماء سے یہ سنتے تھے کہ پہلے سب دھو آں یا پانی تھا اور اس دھوئیں یا پانی سے خدا نے یہ گونا گوں چیزیں پیدا کیں اور یہ کہ خدا نے یہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں چوبیس گھنٹے والے چھ دنوں میں پیدا کیں اور پھر اُس نے ایک مٹی کا بُت بنا کر اُس کے اندر پھونک ماری تو حضرت آدم پیدا ہو گئے اور اُن کی پسلی سے حضرت تو انکل آئیں اور پھر ان دونوں کی نسل آگے چلنی شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ انسانی نسل کا سات ہزار سال سے جاری ہے اور پھر بعض کے نزدیک یہ کہ ابتداء خدا کے ما تحت مادہ نے انڈے کی صورت اختیار کی۔اور یہ انڈا پھٹ کر دو حصوں میں ہو گیا جس سے ایک طرف زمین بن گئی اور دوسری طرف آسمان بن گیا۔اور یہ کہ مرد و عورت خدا کے وجود سے نکل کر ظاہر ہو گئے۔یا یہ کہ خدا کو پسینہ آیا اور پسینے کے قطروں سے یہ سارا عالم پیدا ہو گیا وغیر ذالک۔اس قسم کی باتیں پیدائش عالم کے متعلق لوگ اپنے پادریوں اور مولویوں اور پنڈتوں وغیرہ سے سُن رہے تھے کہ اچانک اُن کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ سائنس کی تحقیقات سے یہ سارے قصے جھوٹے ثابت ہوگئے ہیں اور حق یہ ہے کہ یہ سارا عجائب خانہ عالم مادہ کے ارتقائی خواص سے ظہور میں آیا ہے اور لاکھوں اور کروڑوں سال کے عرصہ میں ہر ایک چیز ادنیٰ حالت سے ترقی کر کر کے اعلیٰ حالت کو پہنچی ہے اور انسان بھی اسی ارتقاء کا کرشمہ ہے وغیر ذالک۔بس پھر کیا تھا لوگ مذہب کی طرف سے بدظن ہو گئے اور سائنس کی نئی روشنی نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کرنا شروع کر دیا اور وہ ایسے بدحواس ہو کر بھاگے کہ خدا کا عقیدہ بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔مذہب کی اس شرمناک ہنریت کی سب سے زیادہ ذمہ داری مغرب کے مسیحی ادریوں پر ہے کیونکہ جدید فلسفہ و سائنس کی آواز سب سے پہلے انہی کے کانوں میں پہنچی اور انہوں نے اس آواز سے بدحواس ہو کر ایسی ایسی مذبوحی حرکات کیں کہ دیکھنے 89