ہمارا خدا — Page 32
سے باہر نہیں ہے خواہ تمہاری نظر میں وہ کیساہی مشکل اور ناممکن نظر آئے۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو سمیع ہے یعنی وہ ہر پکارنے والے کی پکار کوسنتا ہے اور کوئی آواز نہیں جو اس تک نہ پہنچ سکے۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو علیم ہے یعنی کوئی بات یا کوئی خیال یا کوئی چیز خواہ وہ پوشیدہ ہے یا ظاہر ہے اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو ناصر ہے یعنی تمہاری تمام ضرورتوں کے وقت اور تمام تکلیفوں کے وقت وہ تمہاری نصرت فرماتا ہے بشرطیکہ تم اس کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو ازلی ابدی ہے یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور زمانہ کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو جمیل ہے یعنی وہ تمام خوبصورتیوں اور تمام حسنوں کا مجموعہ ہے اور وہی اس قابل ہے کہ انسان اپنی محبت کے پھول اس کے قدموں پر رکھے۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو ودود ہے یعنی وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہیں ان کے ساتھ وہ سب محبت کرنے والوں سے بڑھ کر محبت اور وفاداری دکھاتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو مکام ہے یعنی وہ اپنے تعلق رکھنے والوں کو اپنی ہمکلامی کا شرف عطا کرتا ہے اور گو بوجہ لطیف ہونے کے وہ ان مادی آنکھوں سے نظر نہیں آسکتا، لیکن جو لوگ اس کے عشق کی آگ اپنے سینوں میں رکھتے ہیں ان پر وہ اپنے محبوبانہ کلام کے پانی کا چھینٹا ڈالتا رہتا ہے تا کہ وہ اس عشق کی آگ میں جل کر خاک ہی نہ ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎ میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف۔پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار عزیز و! یہ وہ خدا ہے جسے اسلام پیش کرتا ہے۔میں فی الحال تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم اس خدا پر ایمان لے آؤ مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا 32