ہمارا خدا — Page 28
طرح دنیا کی سٹیج پر جسمانی لذات کا ڈرامہ شروع کر دیں۔اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ کیا تم خود بخود نیست سے ہست میں آگئے ہو؟ کیا تمہارے جسموں کا یہ نہایت مفصل اور حکیمانہ نظام اپنا خالق آپ ہی ہے؟ کیا یہ تمام کارخانہ عالم اپنے اس مدبرانہ قانون کے ساتھ جو تم اس کے ہر حصہ اور ہر گوشہ میں کام کرتے دیکھتے ہو محض اتفاق کا نتیجہ ہے؟ اور اگر ایسا نہیں بلکہ یہ سب کچھ کسی بالا ہستی کی قدرتوں کا کرشمہ ہے تو کیا اس ہستی نے اسے ایک کھلونے کے طور پر پیدا کیا ہے جس کا سوائے اس کے کوئی مقصد نہیں ہے کہ اس کی لذت آشنا آنکھیں اپنی قدرت کے اس نظارہ کو دیکھیں اور جب وہ اس لذت اور سرور سے سیر ہو جائیں تو پھر اس کا ہاتھ اس وسیع عالم کو اپنی ایک حرکت سے حرف غلط کی طرح مٹا دے اور اس کے بعد کوئی نیا کھلونا تیار کرنے میں لگ جائے؟ کیا یہ قرین قیاس نہیں ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد ہو اور اس نے اپنے دنیوی اعمال کے متعلق کبھی کسی کے سامنے کھڑے ہو کر جوابدہ ہونا ہو؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر صحیح الدماغ انسان کی عقل بار بار اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔اب انصاف سے بتاؤ کہ کیا یہ سوالات ایسے ہیں کہ تم ان کو لاتعلق اور غیر ضروری قرار دیکر خاموش ہو جاؤ۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم ان سوالات کا یہ جواب دو یاوہ جواب دو کیونکہ جواب دنیا ہر شخص کی اپنی تحقیق کے نتیجہ پر مبنی ہے جس کے متعلق خود تحقیق کرنے والا بھی پیش از وقت نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا ہو گا مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ جس رنگ میں یہ سوال تمہارے سامنے آتا ہے اس کا یہ تقاضا ہے کہ تم اپنی پوری توجہ کے ساتھ اس مسئلہ کی تحقیق میں لگ جاؤ اور اس وقت تک چین نہ لو جب تک کہ تمہاری آزاد اور دیانتدار نہ تحقیق تمہیں کسی نتیجہ تک نہ پہنچا دے۔خلاصہ کلام یہ کہ فطرت اور عقلِ انسانی ہر دو ہستی باری تعالیٰ کے سوال کو ایسے رنگ میں ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ہم اس تحقیق میں پڑنے سے قطعاً انکار نہیں 28